1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سربیا سے یورپی یونین میں داخلے پر پابندی: مہاجرین کا احتجاج

سو سے زائد تارکین وطن نے سربیا سے مہاجرین کی یورپی یونین کے رکن ممالک میں داخلے پر پابندی کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ان کی یونین کے رکن ممالک تک رسائی ممکن بنائی جائے۔

Flüchtlinge an der Grenze von Serbien und Mazedonien (Getty Images/M. Cardy)

بلقان کی ریاستوں کی جانب سے سرحدیں بند کیے جانے کے بعد سے ہزاروں پناہ گزین سربیا میں پھنسے ہوئے ہیں

یہ احتجاجی مظاہرہ کرنے والے تارکین وطن آج گیارہ نومبر بروز جمعہ سربیا کے دارالحکومت بلغراد کے ایک پارک میں جمع ہوئے۔ ان مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر ’سرحدیں کھولی جائیں‘ اور ’مزید جنگ نہیں‘ جیسے الفاظ تحریر تھے۔ بلقان کی ریاستوں کی جانب سے سرحدیں بند کیے جانے کے بعد سے ہزاروں پناہ گزین سربیا میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سربیا میں زیادہ تر مہاجرین اپنے لیے قائم مراکز میں مقیم ہیں یا پھر وہ بلغراد میں کھلے آسمان تلے پارکوں اور خالی گوداموں میں رہ رہے ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح غیر قانونی طور پر ہی سہی لیکن ہنگری یا کروشیا چلے جائیں۔

Flüchtlinge an der Grenze zu Kroatien und Serbien (Getty Images/AFP/E. Barukcic)

سربیا میں زیادہ تر مہاجرین بلغراد میں کھلے آسمان تلے پارکوں اور خالی گوداموں میں رہ رہے ہیں

دوسری جانب سرب حکام نے حال ہی میں امدادی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے مہاجر مراکز سے باہر سڑکوں پر رہنے والے تارکین وطن کو خوراک کی فراہمی بند کر دیں۔ مہاجرین کے موجودہ بحران کے تناظر میں بلقان کی ریاستوں بالخصوص سربیا کی سرحدی گزرگاہوں پر کافی زیادہ کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

سربیا کو وسطی یورپ تک پہنچنے والے تارکین وطن کا ایک کلیدی راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت بھی ہنگری اور کروشیا میں مقیم بےشمار پناہ گزین اپنی اگلی منزل تک پہنچنے کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔