1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سربیا خطے میں انسانی المیے سے انتباہ کر رہا ہے

پرشٹینا اور سرب اقلیت کے مابین کشیدگی میں غیر معمولی جمود پایا جاتا ہے۔ کوسووو کے لیے بین الاقوامی محافظ دستے KFOR کے فوجیوں کو سربیا اور اس کے غدار صوبے کے سرحدی علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

default

بین الاقوامی محافظ دستے KFOR کے جرمن جنرل ایرہارڈ بیوہلر

بلغراد اس صوبے کوایک آزاد صوبے کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرنا چاہتا۔Zupce ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جو Brnjak کی سرحدی چوکی کی طرف واقع ہے۔ یہاں باڑیں لگی ہیں اورکوسووو کے لیے بین الاقوامی محافظ دستے KFOR کے ہنگری سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کا سخت پہرا ہے۔ KFOR کے درجنوں حفاظتی ٹینک بھاری اسلحہ کے ساتھ یہاں پر موجود ہیں۔ کوئی 200 میٹر کے فاصلے پر، درختوں کے موٹے تنے سے بنے مورچے پر سرخ سفید اور نیلے رنگ والا سربیا کا پرچم لہرا رہا ہے۔

ایک سرب باشندہ کہہ رہا ہے،’ ہم پریس کے ساتھ کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ سرب پریس کے ساتھ بھی نہیں، کیونکہ یہ حقی‍قت کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ ہم بس یہاں رہنا چاہتے ہیں اور کچھ نہیں‘۔ چک پوسٹ پر کھڑا ہنگری کا ایک فوجی کہتا ہے،’ہمارے ساتھ انکا رویہ بہت دوستانہ ہے۔ کل ہی کی بات ہے، یہ ہم سے پوچھ رہے تھے کہ ہمیں پانی یا کوئی اور چیز تو نہیں چاہیے‘۔

Demonstration an der Grenze Kosovo-Serbien

کوسوو۔ سرب سرحدی علاقے میں احتجاجی مظاہرہ

کوسووو کے لیے بین الاقوامی محافظ دستہ KFOR اس علاقے میں مزید کشیدگی سے خبر دار ہے اور اب جرمنی اور آسٹریا کے 700 فوجی اس میں شامل ہونے کے لیے آرہے ہیں۔ اس امر کی تصدیق پرشٹینا میں قائم KFOR کے ہیڈکواٹرز نے کر دی ہے۔ گزشتہ روز یورپی یونین کے رابطہ کار رابرٹ کوپر کوسوو کے دارالحکومت میں تھے۔ قبل ازاں انہوں نے سربوں کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ غالباً یہ بات چیت سربوں کے موقف کے مطابق نہیں رہی۔ سرب چیف مذاکرات کار بورِسلاف اشٹیفانووچ کہتے ہیں،’ میرے پاس دو بُری خبریں ہیں۔ غالباً پرشٹینا کسی اتفاق پر نہیں پہنچ سکا اور ایسا لگتا ہے کہ اب ہماری ضرورت بحیثیت مذاکرات کار کے باقی نہیں رہی ہے‘۔

Kosovo Grenzkonflikt

کوسوو میں تعینات نیٹو امن دستہ

اُدھر کوسوو کے امور کے وزیر ’گوران بوگڈانووچ‘ نے گزشتہ پیر کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا،’ایسا لگتا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور البانیا ہمارے مفادات اور مقاصد کے ساتھ متفق نہیں ہے، اس لیے میں کہتا ہوں کہ ہمیں آپس میں متفق رہنا چاہیے‘۔

دریں اثناء پرشٹینا سے ایک بیان دیتے ہوئے کوسوو کے وزیر اعظم ہاشم تھاچی نے کہا ہم آئندہ بھی کوشش کرتے رہیں گے کہ Brnjak اور پرشٹینا کی سرحد پر کوسوو کے کسٹم آفیسر تعینات ہوں۔ یہی امر ایک ہفتے قبل ایک بڑے سرحدی تنازعے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جبکہ مسئلہ دراصل کچھ اور ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوسوو کس کا ہے؟

رپورٹ: اشٹیفان اوزواتھ/ کشور مصطفیٰ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس