1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب کی طرف سے انکار

افغان طالبان نے ایک مرتبہ پھر اپنے نئے قائد کی تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے۔ طالبان ذارئع کے مطابق دو اہم کمانڈروں سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب نے اس عہدے کو سنبھالنے سے معذرت کر لی ہے۔

Symbolbild Terrorismus Afghanistan

افغان طالبان نے ایک مرتبہ پھر اپنے نئے قائد کی تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے

ملا عمر کے جانشین ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد اس عسکریت پسند تحریک کے سربراہ کی تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس عمل میں طالبان کو کچھ مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ ناقدین کے مطابق سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب کی طرف سے انکار کے بعد اب طالبان کی قیادت اپنی مشاورت میں تیزی لے آئی ہے۔

DW.COM

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی طالبان ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس جنگجو گروہ نے اپنے نئے سربراہ کی دوڑ میں شامل دو اہم جنگجوؤں نے یہ عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی ہے۔ ہفتے کے دن پاکستان میں کیے گئے ایک امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ملا اختر منصور ہلاک ہو گیا تھا۔

طالبان کے بانیوں میں شمار کیے جانے والے ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کے مطابق وہ کم عمر ہونے کے باعث اس اہم عہدے کو سنبھالنے کے لیے وہ تیار نہیں ہیں۔ طالبان کے ایک اعلیٰ ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا ہے، ’’ملا یعقوب نے یہ عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں وہ کم عمر ہے۔‘‘

اسی طرح سراج الدین حقانی نے بھی ذاتی وجوہات کی بنا پر اس عہدے پر براجمان ہونے سے منع کر دیا ہے۔ طالبان ذرائع کے مطابق، ’’ملا منصور کے نائب اور حقانی نیٹ کے آپریشنز ہیڈ سراج الدین حقانی بھی اس منصب پر فائز نہیں ہونا چاہتے۔‘‘

اس پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے طالبان کی سپریم کونسل اتوار کے دن سے ایک ہنگامی ملاقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک نامعلوم مقام پر موجود یہ عسکریت پسند ایک ایسا جنگجو کمانڈر منتخب کرنا چاہتے ہیں، جو طالبان کے تمام حلقوں کو قبول ہو۔

طالبان کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ یہ ایک مشکل وقت ہے، ’’اس وقت ہمیں جنگجو کی نہیں بلکہ ایک اچھے مذاکرات کار کی ضرورت ہے‘‘۔

یہ امر اہم ہے کہ طالبان نے ابھی تک اپنے کمانڈر ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ طالبان کے ایک اہم جنگجو نے اے ایف کو بتایا ہے، ’’حقیقی چیلنج یہ ہے کہ طالبان کی تحریک مزید تقسیم کا شکار نہ ہو۔‘‘ اس جنگجو کے مطابق طالبان کی سپریم کونسل اپنی اس مشاورت کے لیے میٹنگ کے مقامات کو مسلسل تبدیل بھی کر رہی ہے تاکہ ممکنہ فضائی حملے سے بچا جا سکے۔

نام ظاہر کیے بغیر طالبان کے اس جنگجو نے مزید کہا کہ نیا کمانڈر منتخب کرنے میں کچھ عرصہ درکار ہو گا۔ طالبان کے نئے سربراہ کے طور پر ملا عبدالغنی برادر کا نام بھی لیا جا رہا ہے، جو اس تحریک کا نائب سربراہ ہونے کے علاوہ پاکستانی فوجی اسٹبلشمنٹ کے قریب بھی تصور کیا جاتا ہے۔

ملا برادر کو سن 2010 میں پاکستان سے گرفتار کر کے کی ایک جیل میں قید کرد یا گیا تھا۔ بعدازاں اسے ستمبر سن 2013 میں افغان امن عمل کی کوششوں کے سلسلے میں رہا کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر یہ جنگجو تب سے پاکستانی حکام کی سرپرستی میں نظر بند ہے۔

Afghanistan Taliban-Führer Akhtar Mohammed Mansur durch Drohne getötet

طالبان نے ابھی تک اپنے کمانڈر ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے

طالبان کے نئے سربراہ کے طور پر ایک اور اہم نام ملا عبدالقیوم ذاکر کا بھی لیا جا رہا ہے، جو طالبان کی صفوں میں انتہائی سفاک جنگجو تصور کیا جاتا ہے۔ اس جنگجو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کی تحریک سے بے پناہ انسیت بھی رکھتا ہے۔

ناقدین کے مطابق طالبان کی کوشش ہے کہ ایک ایسا کمانڈر چنا جائے، جو طالبان کے مختلف دھڑوں میں دوریاں ختم کرتے ہوئے اس عسکریت پسند گروہ کی صفوں کو متحد کر دے۔ ملا عمر کے موت کی اطلاع کے بعد جب طالبان نے ملا اختر منصور کو نیا کمانڈر بنایا تھا تو یہ مسلح باغی تحریک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی تھی۔