1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سخاروف انعام عرب اسپرنگ کے کارکنوں کے نام

عرب ممالک میں جمہوریت کی تحریک کے، جسے عرب اسپرنگ کا نام دیا جاتا ہے، پانچ کارکنوں کو سخاروف انعام سے نوازا گیا ہے۔ یہ انعام آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔

محمد بوعزیزی

محمد بوعزیزی

سال 2011ء کے لیے یہ انعام حاصل کرنے والوں میں تیونس میں ریڑھی لگانے والا محمد بوعزیزی بھی شامل ہے، جس نے 17 دسمبر 2010ء کو خود کو آگ لگا کر احتجاج کیا تھا۔ وہ دو ہفتوں بعد انتقال کرگیا تھا۔ اس کی موت تیونس میں کئی عشروں سے برسر اقتدار صدر زین العابدین بن علی کے خلاف ایک عوامی تحریک کا محرک ثابت ہوئی۔ ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں بالآخر زین العابدین کو اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہونا پڑا۔ تیونس کے بعد یہ احتجاج دیگر عرب ملکوں میں جمہوریت کی تحریکوں کا نقطہء آغاز ثابت ہوا۔

محمد بوعزیزی کے بھائی سلیم بوعزیزی نے یہ انعام تیونس کے عوام کے نام منسوب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انعام اس بات کا ثبوت ہے کہ تیونس میں تبدیلی کے لیے دنیا نے محمد بوعزیزی کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔

یورپی پارلیمان کی طرف سے اس سال کے سخاروف انعام کے لیے جن دیگر لوگوں منتخب کیا گیا ہے ان میں مصری بلاگر عاصمہ محفوظ، لیبیا کے سابق قیدی احمد الزبیر احمد السنوسی اور شام سے تعلق رکھنے والے دو افراد رزان زیتونے اور کارٹونسٹ علی فرزات شامل ہیں۔

ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں بالآخر زین العابدین کو اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہونا پڑا

ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں بالآخر زین العابدین کو اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہونا پڑا

یورپی پارلیمان کے صدر جیرزی بوزیک کے مطابق: ’’ ان پانچوں نے عرب دنیا میں تبدیلی کے لیے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔‘‘ بوزیک نے اپنے بیان میں مزید کہا: ’’ ان لوگوں کی طرف سے آزادی اور جمہوریت کے حق میں اور آمرانہ حکومتوں کے خلاف جدوجہد کے لیے یہ ایوارڈ اس بات کی یقین دہانی ہے یورپی پارلیمان ان کے ساتھ ہے۔‘‘

سخاروف اعزاز کے ساتھ 50 ہزار یورو کی انعامی رقم بھی ہے۔ بوزیک سال 2011ء کے لیے سخاروف انعام 14 دسمبر کو یورپی پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔ یہ تقریب مشرقی فرانس کے شہر اسٹراس برگ میں منعقد ہوگی جہاں یورپی پارلیمان واقع ہے۔

سابقہ سوویت حکومت کے مخالف کارکن آنجہانی آندرے سخاروف کے نام پر یہ انعام گزشتہ 23 سالوں سے دیا جا رہا ہے۔ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں نیلسن منڈیلا، آنگ سان سوچی اور کوفی عنان جیسی شخصیات شامل ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس