1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ستر سال بعد پہلی مرتبہ کوئی امریکی وزیر خارجہ کیوبا میں

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کیوبا کے تاریخی دورے پر ہوانا میں ہیں۔ وہ امریکی سفارت خانے میں ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کے لیے کیوبا پہنچے ہیں۔

جان کیری کا یہ دورہ اس حوالے سے تاریخی حیثیت کا حامل ہے کہ 1945ء کے بعد سے پہلی مرتبہ کوئی امریکی وزیر خارجہ کیوبا میں ہے۔ دوبارہ سے کھلنے والے امریکی سفارت خانے میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیری نے کہا کہ ’’کیوبا کی قیادت اور عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ امریکا جمہوری اقدار اور اصلاحات کا عالمی چیمپئن ہی رہے گا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حقیقی جمہوریت ہی کیوبا کے عوام کی بہتر انداز میں خدمت کر سکتی ہے: ’’جہاں عوام کواپنے رہنما خود منتخب کرنے کی آزادی ہو، جہاں سماجی اور اقتصادی انصاف ہو، آزادیٴ اظہار ہو اور لوگ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزار سکیں‘‘۔ کیری نے خبردار بھی کیا کہ واشنگٹن حکام اس کمیونسٹ ریاست پر جمہوری اصلاحات نافذ کرنے کے حوالے سے دباؤ بھی ڈالتے رہیں گے۔

امریکی صدر باراک اوباما اور کیوبا میں ان کے ہم منصب راؤل کاسترو نے سترہ دسمبر 2014ء کو ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفارت خانے کھولنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔ اب تقریباً چّون سال بعد دونوں ممالک نے اپنے اپنے سفارت خانے دوبارہ سے کھولے ہیں۔ امریکا نے سرد جنگ کے دور میں تین جنوری 1961ء کو کیوبا میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔

Kuba Havana Wiedereröffnung US-Botschaft Fahne

امریکا نے سرد جنگ کے دور میں تین جنوری 1961ء کو کیوبا میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا

اوباما اور کاسترو کے مابین ہونے والے مذاکرات اور دونوں ممالک کی قربت کے حوالے سے واشنگٹن میں قدامت پسندوں کی جانب سے اوباما انتظامیہ کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ دوسری جانب کیوبا کے امریکا میں مقیم منحرفین کا موقف یہ ہے کہ اس پورے سلسلے میں انہیں تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔کیری کے بقول باہمی تعلقات کا بگاڑ اور امریکی اقتصادی پابندیاں بھی کیوبا میں اصلاحات لانے میں ناکام رہیں:’’معاملات کوسلجھانے میں دشواریاں تو ہوں گی لیکن سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔‘‘

ہوانا میں امریکی سفارت خانے کے باہر کیری کی تقریر سننے کے لیے ہزاروں افراد جمع تھے۔ کیوبا کے سرکاری ٹیلی وژن چینل نے یہ تقریب براہ راست نشر کی۔ اس سے قبل کیوبا نے جولائی میں واشنگٹن میں اپنا سفارت خانہ کھول دیا تھا۔ اس سلسلےمیں واشنگٹن میں ہونے والی تقریب پرچم کشائی میں کیوبا کے وزیر خارجہ برونو رودریگیز نے شرکت کی تھی۔