1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سترہ پولیس اہلکاروں کے اجتماعی قتل کی وڈیو کی مذمت

طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک پر تشدد وڈیو کی پاکستان کے عوامی حلقوں نے مذمت کی ہے۔

default

طالبان کی طرف سے جاری کردہ اس وڈیو میں عسکریت پسندوں کو سترہ پولیس اہلکاروں کو قطار میں کھڑا کر کے گولیاں مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ یکم جون کو افغانستان سے ملحق پاکستان کے قبائلی علاقے اَپر دیر میں پیش آیا تھا۔ پاکستان کے عوامی حلقوں نے طالبان کی اس کارروائی کو بربریت قرار دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق: ’’تیس میں سے سترہ پولیس اہلکاروں کے ہاتھ باندھ کر ان کو بربریت سے قتل کیا گیا۔‘‘

Karte von Pakistan mit Swat Region in gelb

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ یکم جون کو افغانستان سے ملحق پاکستان کے قبائلی علاقے اَپر دیر میں پیش آیا تھا

یہ وڈیو سب سے پہلے لائو لیک نامی ویب سائٹ پر پیش کی گئی تھی۔ تمام پولیس اہلکار عام لباس میں دکھائے گئے اور ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ چار عسکریت پسند، جن کے چہرے نقاب میں چھپے ہوئے تھے۔ یہ عسکریت پسند پشتو زبان میں گفتگو کر رہے تھے، اور ان میں سے ایک کے الفاظ کچھ یوں تھے: ’’یہ اللہ کے دین کے دشمن ہیں، اور یہ اسلام ترک کرچکے ہیں۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے‘‘ یہ کہنے کے بعد یہ مسلح افراد پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلاتے ہیں۔

پاکستانی حکومت نے اس وڈیو پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف میں بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے تاہم اس کے باوجود بین الاقوامی برادری اس کے کردار پہ شک کرتی ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کے کئی حلقوں کا یہ مؤقف ہے کہ پاکستانی افواج اور اس کا خفیہ ادارہ آئی ایسی آئی بعض طالبان کی معاونت کرتے ہیں۔ اس تاثر کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں موجود ہونے اور اس کی امریکی اسپیشل فورسز کے خفیہ آپریشن میں ہلاکت سے تقویت ملی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM