1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سترہ سو پچاس سے زائد مہاجرین کو سمندر برد ہونے سے بچایا گیا

اطالوی حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں سترہ سو پچاس سے زائد مہاجرین کو ڈوبنے سے بچایا گیا ہے۔ یہ مہاجرین کمزور کشتیوں پر سوار ہو کر بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش میں تھے۔

اٹلی کے کوسٹ گارڈز کے مطابق بدھ یکم فروری سے جمعرات دو فروری کے درمیانی گھنٹوں میں ایک ہزار سات سو پچاس سے زائد مہاجرین کو سمندر میں ڈوبنے سے بچایا گیا ہے۔ جمعرات کے دن 450 مہاجرین کو سمندر کی سطح اور ڈوبتی کشتیوں میں سے نکال کر حفاظتی کشتیوں میں منتقل کیا گیا۔ ان مہاجرین کو بچانے کے لیے امدادی ٹیموں نے پانچ آپریشن مکمل کیے۔ جمعرات کو ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور ایس او ایس نامی تنظیموں کی مشترکہ امدادی بحری جہاز  نے سمندر برد ہوتے مہاجرین کی زندگیوں کوبچایا تھا۔

طیی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق ایک سو ڈوبتے مہاجرین کو جمعرات کی علی الصبح موت کا نوالہ بننے سے محفوظ رکھا گیا تھا۔ ان میں سات خواتین اور اکتالیس ایسے بچے تھے، جن کے ہمراہ والدین یا کوئی نگران نہیں تھا۔

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نامی بین الاقوامی طبی تنظیم نے مزید کہا ہے کہ انسانی اسمگلروں کے خلاف جنگ شروع کرنے یا اُن کی گرفتاریوں سے مہاجرت کا عمل تھم نہیں سکتا لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلح تنازعات کا خاتمہ کر کے امن بحال کرنے کے علاوہ غربت کی سطح کو کم سے کم  کیا جائے۔

Griechenland Kos Bootsflüchtlinge Symbolbild Schlepper (picture-alliance/dpa/Y. Kolesidis)

یحیرہ روم میں مہاجرین کی ایک کشتی کو ساحل پر پہنچایا جا رہا ہے

بدھ یکم فروری کو تیرہ سو سے زائد افراد کو بچایا گیا تھا۔ بحیرہ روم میں گشت کرتی حفاظتی بحری کشتیوں نے افریقی مہاجرین  کی کمزور کشتیوں کے ڈوبنے کی نشاندہی کی تھی۔ اطالوی کوسٹ گارڈز کے مطابق یہ مہاجرین ایسی کشتیوں پر سوار تھے جو سمندری سفر کے لیے عارضی طور پر بنائی گئی تھیں۔

اٹلی کے سمندری نگرانی کے محکمے کے مطابق رواں برس کے پہلے مہینے جنوری کے دوران تقریباً ساڑھے پانچ ہزار افریقی مہاجرین کو سمندر میں ڈوبنے سے بچایا گیا۔ اقوام متحدہ کی ریفیوجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنوری میں 220 مہاجرین یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم کی لہروں کی نذر ہو گئے۔

 اٹلی اور لیبیا کی یونٹی حکومت کے سربراہان کی ملاقات بھی اٹلی کے دارالحکومت روم میں جمعرات دو فروری کو ہوئی۔ اس دوران یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹُسک کا کہنا ہے کہ لیبیا سے یورپ کے لیے انسانی اسمگلروں کی کارروائیوں کو بہت جلد مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔