1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سترہ افراد کو ہلاک کرنے والے تیرہ دہشت گرد بھی پار

سکیورٹی فورسز نے پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں ایئر فورس بیس پر حملے کے بعد اپنا وہ سرچ آ‌پریشن مکمل کر لیا ہے، جو علاقے میں دہشت گردوں کے ساتھیوں اور بارودی مواد کی ممکنہ موجودگی کی اطلاعات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

Pakistan Angriff auf Luftwaffenstützpunkt in Peshawar

زخمیوں کی تعداد تیس تا پینتیس بتائی جا رہی ہے، جو لیڈی ریڈنگ سمیت ملٹری ہسپتال میں زیر علاج ہیں

پشاور پولیس کے سپرنٹنڈنٹ شاکر اللہ بنگش کا کہنا تھا:’’پولیس نے فضائیہ کے رہائشی کیمپ کے آس پاس کے علاقوں کو گھیرے میں لیا اور یہاں سرچ آپریشن کا آغاز کیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن اس لیے کیا جا رہا ہے کہ کہیں ان علاقوں میں دہشت گردوں کے دیگر ساتھی موجود نہ ہوں۔

ادھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ایئر چیف مارشل سہیل امان نے پشاور کے ملٹری ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی جبکہ اس سے قبل انہیں آپریشن کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی اس واقعے کے فوراً بعد بڈھ بیر بیس پہنچ گئے۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کی۔ ان کا کہنا تھا:’’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آپریشن ضرب عضب اور خیبر ون کے دوران دہشت گردوں کے زیادہ تر ٹھکانے تباہ کیے گئے، ان کے خلاف آپریشن کامیابی سے جاری ہے، دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اب وہ آخری حملے کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد ایئر فورس کے بیس کیمپ تک پہنچنا چاہتے تھے لیکن اُن کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور کئی مشکوک لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

علی الصبح ہونے والے اس حملے کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی جبکہ قریبی علاقوں میں سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ اطلاعات کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے ماہ اگست کے آخر میں اس حملے کے خدشات ظاہر کیے تھے۔ افغانستان میں پناہ لینے والے کالعد م تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان خراسانی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

Pakistan Angriff auf Luftwaffenstützpunkt in Peshawar

پولیس نے فضائیہ کے رہائشی کیمپ کے آس پاس کے علاقوں کو وہاں دہشت گردوں کے ساتھیوں اور بارودی مواد کی ممکنہ موجودگی کی اطلاعات کے بعد گھیرے میں لے لیا

بڈھ بیر ایئر فورس بیس کے نواحی علاقوں میں آئے روز پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری رہتا ہے۔ یہ علاقہ پاکستان کے نیم قبائلی علاقے درّہ آدم خیل کے قریب واقع ہے۔ جمعے کو ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کے وقت بھی مقامی لوگ اس آپریشن کو سکیورٹی کی جانب سے کیا جانے والا آپریشن سمجھ بیٹھے۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے سربراہ اے آئی جی شفقت ملک کا کہنا تھا:’’ہر دہشت گرد کے پاس دو دو خود کُش جیکٹیں تھیں اور انہوں نے گرینیڈز کا استعمال کیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ نادرا کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے اور دہشت گردوں کی شناخت کے لیے مواد جمع کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئیک ریسپانس فورس کی وجہ سے حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔

پولیس اور دیگر اہلکاروں نے ان علاقوں میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے پندرہ لوگوں کو شک کی بنا پر حراست میں لیا ہے۔ بڈھ بیر بیس پر حملہ آوروں کی تعداد چودہ بتائی گئی ہے، جو مبینہ طور پر کیمپ میں داخل ہونے کے بعد دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔ یہ لوگ ایف سی کی یونیفارمز میں ملبوس تھے اور ذرائع کا کہنا تھا کہ انہوں نے جعلی کارڈ بنا رکھے تھے۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق اس حملے میں تیرہ دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ سولہ نمازیوں سمیت فورس‍ز کا ایک افسر اور تین جونیئر ٹیکنیشنز بھی جان بحق ہوگئے۔ اس واقعے میں زخمیوں کی تعداد تیس تا پینتیس بتائی جا رہی ہے، جو لیڈی ریڈنگ سمیت ملٹری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

Pakistan Angriff auf Luftwaffenstützpunkt in Peshawar

علی الصبح ہونے والے اس حملے کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی جبکہ قریبی علاقوں میں سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان پر دیگر ادارے مکمل عمل درآمد نہ کرسکے۔ کئی قومی ادارے اس پر عمل درآمد کرنے کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر الیاس بلور کا کہنا ہے:’’یہ آپریشن ضرب عضب کا رد عمل ہے، جس میں سکیورٹی فورسز کو کافی کامیابی مل رہی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہر حال میں مکمل کرنا ہو گی اور ان کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ایئر فورس نے مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے فضائی آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کے اہم ٹھکانے تباہ کیے ہیں، جس میں ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات