1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’سب ہوتے بھی کچھ نہیں‘، پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا حال

ٹیکسٹائل کی صنعت کے حوالے سے پاکستان کا مشہور ترین شہر فیصل آباد اب لوہے کا کاروبار کرنے والوں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ اب یہاں ٹرکوں پر کپڑا لدا ہوا نہیں ہوتا بلکہ کسی بند ہونے والی فیکٹری کی مشینیں دکھائی دیتی ہیں۔

default

کپڑے کی صنعت پاکستانی اقتصادیات کی شہ رگ کہلاتی ہے۔ افراط زر، توانائی کے بحران اور معاشی صورتحال کی بد حالی کی وجہ سے یہ صنعت مسلسل بحران کا شکار ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دن میں گھنٹوں بجلی غائب رہنے کی وجہ سے فیکٹری مالکان وقت پرآرڈرز پورے نہیں کر پا رہے، جس کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیوں کا ان پر سے بھروسہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آرڈرز کی کمی کی وجہ سے ملک کی کئی بڑی بڑی ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں کام کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا براہ راست اثر ملازمین پر پڑ رہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روز گار ہو رہے ہیں۔

فیصل آباد ایوان صنعت و تجارت کے سابق سربراہ شیخ عبدالقیوم کے مطابق شہر میں تقریباً 800 یونٹس بند ہو چکے ہیں جبکہ صوبہ پنجاب میں 2000 سے زائد فیکٹریوں کے دروازوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

24.02.2011 DW-TV JOURNAL WIRTSCHAFT REPORTAGE Baumwolle

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کے علاوہ بجلی اور دھاگے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ نے صنعتکاروں کی کمر توڑ دی ہے

ان کے بقول صوبے بھر میں 5 لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں اور کپڑوں کی صنعت کے اس بحران کی وجہ سے فیصل آباد میں ایک لاکھ افراد کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی بہت سے فیکٹریاں ایسی ہیں، جو دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔

کپڑے کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات ملک آمدنی کا 60 فیصد بنتی ہے۔31 سالہ ملک امان اللہ مانی ایک صنعت کار اور اپنی خاندانی ٹیکسٹائل مل کے منیجر تھے۔ ان کا کہنا ہے ’’ایک تو لوڈ شیڈنگ پھر بجلی اور دھاگے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ نے کمر توڑ دی ہے‘‘۔ اسی وجہ سے وہ اپنی فیکٹری کا زیادہ ترحصہ فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور اس میں مشینیں بھی شامل ہیں۔ امان اللہ مانی کا مزید کہنا تھا، ’’ ایک وقت تھا جب میرا شمار شہر کے امراء میں ہوتا تھا۔ میں ملازمین میں تنخواہیں تقسیم کیا کرتا تھا اوراب حالت یہ ہے کہ مجھے اپنے والد کی فیکٹری میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: افسر اعوان

DW.COM