1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سب کے احتساب کی بات لیکن پرویز مشرف کا کیوں نہیں؟‘

پاکستانی فوج کے سربراہ نے ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور بلا امتیاز سب کا احتساب کرنے کا کہا ہے۔ اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے لیکن سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا احتساب کیوں نہیں کیا گیا؟

بحرانوں میں گھرے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے لیے اس وقت ایک اور مشکل پیدا ہوگئی جب ملک کی طاقتور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے منگل کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کرپشن کے خاتمے پر زور دیا۔ آج یہ بیان پاکستان کے تمام اخبارات میں شہ سرخیوں کی زینت بنا جبکہ گزشتہ رات کئی ٹی وی چینلز اس پر بحث کرتے ہوئے نظر آئے۔ مسلم لیگ کی قیادت نے پہلے ہی سیاسی جماعتوں سے صلاح و مشورے شروع کیے ہوئے ہیں۔ منگل کو کچھ وفاقی وزرا ء نے مذہبی جماعتوں کے رہنماوں سے ملاقاتیں بھی کیں جب کہ آج نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھی وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے حزب اختلاف کے رہنما سید خورشید شاہ سے فون پر رابطہ کیا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسلم لیگ نون کا آج اسلام آباد میں اہم اجلاس ہو رہا ہے، جس کی صدارت میاں نواز شریف کریں گے۔ اجلاس کا مرکزی نقطہ موجودہ سیاسی صورت حال ہے جب کہ پاکستان تحریکِ انصاف بھی اپنی سیاسی حکمتِ عملی بنانے کے لئے آج سر جوڑ کر بیٹھے گی۔

سیاسی تجزیہ نگار موجودہ صورت حال میں راحیل شریف کے اس بیان کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے ڈاکڑ فرحان حنیف صدیقی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’مشرف اور کیانی کے ادوار میں فوج کی عوامی ساکھ بہت متاثر ہوئی تھی۔ کیانی کے بھائی پر تو الزامات بھی لگائے گئے۔ راحیل شریف نے ضرب عضب میں کامیابی حاصل کر کے عوامی سطح پر بہت پذیرائی حاصل کی۔ ایک اندازے کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں چالیس فیصد کمی ہوئی ہے۔ راحیل شریف نے بدعنوانی کے خلاف بھی اقدامات کیے۔ کچھ ریٹائرڈ جنرلز کے اعزازات بھی واپس لئے گئے جب کہ کچھ ریٹائرڈ افسران مالیاتی بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار ہوئے۔ غیر عسکری سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی۔ اس بیان سے حکومت پر دباؤ پڑے گا لیکن کسی غیر جمہوری اقدام کا امکان نہیں کیونکہ سب کو یہ پتہ ہے کہ اگر کوئی غیر جمہوری قدم اٹھایا گیا تو عدلیہ، سیاستداں، میڈیا اور سول سوسائٹی اس کی بھر پور مخالفت کریں گے۔‘‘

وفاقی اردو یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر توصیف احمد نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ اس بیان کے بعد نواز شریف پر دباؤ ڈال کر وقت سے پہلے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ آرمی چیف نے سب کے احتساب کی بات کی ہے تو لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ پرویز مشرف کا احتساب کیوں نہیں کیا گیا؟ مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف بھارت سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور کچھ قوتوں کو یہ بات پسند نہیں ہے۔‘‘

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’میں اس بیان کا بھر پور خیر مقدم کرتا ہوں۔ اگر نواز شریف کو کچھ چھپانا نہیں ہے تو وہ چیف جسٹس کے ماتحت ایک آزاد عدالتی کمیشن بنا دیں گے لیکن اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر اس کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’راحیل شریف کا کرپشن کے خلاف بیان قوم کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کبھی بھی کرپشن کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے کیوں کی یہ خود اس میں ملوث ہیں۔‘‘

عمران خان کے احتجاجی طوفان کو روکنے کے لیے موجودہ حکومت نے پی ٹی آئی کو ملنے والے چندے کی تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ہاتھ صاف ہیں جب کہ فیصل جاوید خان کا دعویٰ ہے کہ ان کی پارٹی ہر طرح کی تفتیش کے لیے تیار ہے، ’’لیکن ہزاروں مریضوں کا مفت علاج کرنے والے شوکت خانم اسپتال پر نواز حکومت نے الزامات لگا کر بہت گٹھیا حرکت کی ہے۔‘‘

نون لیگ کے ظفر علی شاہ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ آرمی چیفکے بیان سے موجودہ حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ موجودہ سیاسی بحران سے حکومت کا نکلنا آسان نہیں ہوگا۔