1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’سب کو حصہ ملے تو سرکاری ملازمین کی کرپشن قابل قبول‘

تھائی لینڈ کے قریب نصف باشندوں نے کہا ہے کہ اگر رشوت کی رقوم میں سے انہیں بھی حصہ ملے تو ان کے لیے سرکاری ملازمین کی کرپشن قابل قبول ہو گی۔ بدعنوان ملکوں کی عالمی فہرست میں تھائی لینڈ ایک سو ایک ویں نمبر پر ہے۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے اتوار بارہ مارچ کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق مختلف موضوعات پر رائے عامہ معلوم کرنے والے غیر جانبدار ادارے ’سپر پول‘ کی طرف سے کرائے گئے کرپشن سے متعلق ایک نئے جائزے کے آج اتوار کو شائع ہونے والے نتائج کے مطابق اس سروے میں 1201 تھائی شہریوں سے ان کی رائے دریافت کی گئی۔

جنوبی کوریائی صدر کو دستوری عدالت نے عہدے سے فارغ کر دیا

بھارتی سیاستدان کے لیے تامل ناڈو کی وزارت اعلیٰ کی بجائے جیل

اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف کرپشن کی ’تحقیقات کا آغاز‘

چھ مارچ سے لے کر گیارہ مارچ تک کے چھ روز میں مکمل کیے گئے اس سروے میں قریب 47 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ سرکاری ملازمین کا بدعنوان ہونا بری بات ہے تاہم اگر اس طرح حاصل ہونے والے مالی فوائد میں انہیں بھی حصے دار بنایا جائے، تو وہ اس کرپشن کو ’برداشت‘ کر لیں گے اور ان کے لیے حکومتی ملازمین کا رشوت خور ہونا ’قابل قبول‘ ہو گا۔

Logo Transparency International

دو ہزار سولہ میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے عالمی کرپشن انڈیکس میں تھائی لینڈ ایک سو ایک ویں نمبر پر تھا

ڈی پی اے کے مطابق اس سروے کے نتائج اس پہلو سے بھی قابل غور ہیں کہ ابھی جنوری میں ہی بدعنوانی کے خلاف سرگرم بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنا نیا عالمی کرپشن انڈیکس جاری کیا تھا۔

اس انڈیکس کے مطابق تھائی لینڈ میں ماضی کے مقابلے بدعنوانی بڑھی ہے۔ 2015ء میں دنیا کے بدعنوان ترین ملکوں کی فہرست میں تھائی لینڈ کا نمبر 76 واں تھا، جو 2016ء میں مزید خرابی کے بعد 101 ہو گیا تھا۔

جنوب مشرقی ایشیائی ملک تھائی لینڈ میں بدعنوانی کی روک تھام کے ملکی محکمے کی طرف سے ان دنوں کرپشن کے ایک ایسے بڑے واقعے کی چھان بین بھی کی جا رہی ہے، جس میں ہوائی جہازوں کے انجن تیار کرنے والے ادارے رولز رائس، فضائی کمپنی تھائی ایئر ویز اور کئی سابق اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کو اپنے خلاف تحقیقات کا سامنا ہے۔

تھائی لینڈ کے نیشنل اینٹی کرپشن کمیشن کے مطابق اس سلسلے میں مجموعی طور پر 26 افراد کے خلاف ان الزامات کے تحت تفتیش جاری ہے کہ وہ 2004ء اور 2005ء میں کروڑوں ڈالر مالیت کے ایک بوئنگ ہوائی جہاز اور رولز رائس انجنوں کی خریداری میں بدعنوانی کے مرتکب ہوئے تھے۔

DW.COM