1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’سب مِشن‘ ناول اب اسٹیج پر

فرانسیسی ناول نگار مشیل ویلبیک کے مشہور ناول ’سب مِشن‘ کو جرمنی میں اسٹیج پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اِس ناول میں بتایا گیا ہے کہ سن 2022 میں فرانس میں مسلم آبادی کی حمایت پر ایک مسلمان الیکشن جیت کر صدر بن جاتا ہے۔

مشیل ویلبیک کا ناول پہلے ہی جرمنی میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے اور اب اسٹیج ڈرامے نے ہیمبرگ میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ اسی طرح اسلام مخالف تنظیم پیگیڈا کے جنم مقام ڈریسڈن میں بھی گزشتہ ویک اینڈ پر اِس ناول پر مبنی اسٹیج ڈرامہ پیش کیا جا چکا ہے اور اگلے مہینے اپریل میں برلن کے تھیئٹر میں یہ پیش کیا جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ملکوں کے ہزاروں تارکین وطن جرمنی میں آباد ہو چکے ہیں اور اِس باعث کئی علاقوں کے مقامی جرمن باشندے ایسے خدشات رکھتے ہیں کہ اُن کی معاشرت پر مستقبل میں اسلامی ثقافتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ہیمبرگ کے مرکزی تھیئٹر میں ’سب مِشن‘ ناول پر بنائے گئے ڈرامے کے مرکزی کردار کو ایڈگر زیلگے نے ادا کیا تھا۔ زیلگے نے ڈرامے میں کردار نگاری کے بعد کہا کہ یہ آج کے دور کی کہانی محسوس ہوتی ہے اور کئی لوگ یقینی طور پر حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے اندر گہری تشویش رکھتے ہیں۔ ڈرامے میں زیلگے نے ایک استاد کا کردار ادا کیا ہے، جو مسلسل خود کلامی کے انداز میں ناول میں بننے والی مسلمان انتہا پسند حکومت کے اقدامات کا احاطہ کرتا ہے۔ زیلگے نے مزید کہا کہ ویلبیک نے ناول میں اپنے قارئین سے سوال کیا ہے کہ وہ کن اقدار کو اپنے کلچر میں اہمیت دیتے ہیں۔

Frankreich Schriftsteller Michel Houellebecq

فرانسیسی ناول نگار مشیل ویلبیک

ڈریسڈن میں ’سب مِشن‘ اسٹیج ڈرامے کے ہدایتکار مالٹے سی لخمان کا کہنا ہے کہ ویلبیک کا ناول قطعاً اسلام مخالف نہیں اور نہ ہی اسلام کے بارے میں ہے بلکہ یہ یورپی لوگوں اور مغربی تہذیب اور اِس سے پیدا ہونے والی تکالیف کے بارے میں ہے۔ ڈرامے کی پیشکش پر جرمن اخبار ’ڈی سائٹ‘ نے تبصرہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ اگر ویلبیک کے ناول جیسے حالات ہو جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید دور میں کسی طرح مسلم نظریات مغربی معاشرے کو اتھل پتھل کر سکتے ہیں۔

ناول سب مِشن (Submission) کا فرانسیسی نام سُومِسیوں (Soumission) ہے۔ ناقدین اور دانشوروں نے اِسے سن 2015 کا ایک انتہائی چونکا دینے والے پلاٹ کا ناول قرار دیا تھا۔ ناول کا زمانہ اب سے تقریباً چھ برس بعد یعنی سن 2022 کا ہے اور فرانس میں ایک مسلمان انتہا پسند حکومت انتخابات جیت کر قائم ہو گئی ہے۔ اِس حکومت نےمشہور سوربوں یونیورسٹی کا نام تبدیل کر کے پیرس سوربوں اسلامک یونیورسٹی کر دیا ہے۔ خواتین نے مغربی جامے چھوڑ کر حجاب کو اپنانے پر مجبور ہیں۔ یونیورسٹی کے غیر مسلم اساتذہ کو مذہب کی تبدیلی کا سامنا ہے۔

سب مِشن ناول کے خالق مشیل ویلبیک ہیں۔ ویل بیک فرانس کے انتہائی مقبول ناول نگاروں میں شمار کیے جاتے سن 2010 میں انہیں فرانس کے سب سے معتبر اور اعلیٰ ترین ادبی انعام گوں کُور (Goncourt) سے بھی نوازا جا چکا ہے۔