1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سب سے بڑی جاپانی ایئر لائن کو دیوالیہ پن کی اجازت

جاپان میں وسیع تر مالی خسارے کے نتیجے میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ٹوکیو حکومت نے ماضی میں سرکاری انتظام میں چلنے والی ملک کی سب سے بڑی فضائی کمپنی جاپان ایئر لائنز کو دیوالیہ پن کی درخواست دینے کی اجازت دے دی ہے۔

default

جاپان کا کانسائی انٹرنیشنل ایئر پورٹ

جاپان ایئر لائنز JAL اپنی سالانہ آمدنی کے حوالے سے ایشیا کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ہے۔ دیوالیہ پن کی درخواست دینے کے بعد یہ ادارہ ریاست کی طرف سے مہیا کئے جانے والے ان مالی وسائل سے فائدہ اٹھا سکے گا جو اسے اپنی کاروباری مصروفیات کو جاری رکھنے اور ایک بڑے کمرشل ادارے کے طور پر اپنی تشکیل نو کے عمل کو حقیقت کا روپ دینے میں مددگار ثابت ہو سکے گا۔

جمعہ کو ٹوکیو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق جمعرات کے روز اس فضائی کمپنی کو قرضے مہیا کرنے والے سب سے اہم مالیاتی اداروں میں سے کئی ایک نے، جن میں Mizuho کارپوریٹ بینک، بینک آف ٹوکیو مٹسوبیشی اور UFJ بھی شامل تھے، جاپان ایئر لائنز کے تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل نو کے اس منصوبے پر رضامندی ظاہر کردی جو ایک عدالت کے حکم پر تیار کیا گیا ہے۔

Flughafen Osaka (Kansai International Airport)

اوساکا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا ایک ٹرمینل

اس جاپانی فضائی کمپنی کو گزشتہ پانچ میں سے چار برسوں کے دوران بہت بڑے کاروباری خسارے کا سامنا رہا۔ جاپان میں کوئی بھی مالی سال مارچ کی 31 تاریخ کو ختم ہو تا ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران اس کمپنی کو کل 131.2 بلین ین کا نقصان ہوا۔ اسی لئے یہ امر پچھلے چند مہینوں سے واضح ہو چکا تھا کہ مالی مشکلات کی شکار یہ ایئر لائن بہت بڑی اور جامع نوعیت کی تنظیمی اصلاحات کے بغیر مستقبل میں اپنی کاروباری سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکے گی۔

اب تک یہ ایئرلائن ریاست کی طرف سے بار بار مہیا کی گئی ہنگامی مالی امداد کی بنا پر اپنی کمرشل پروازیں جاری رکھنے میں کامیاب رہی۔ لیکن باقاعدہ طور پر دیوالیہ پن کی درخواست دینے کے بعد نہ صرف JAL کی مالی مشکلات میں کمی آ جائے گی بلکہ اسے مہیا کی جانے والی جاپانی ٹیکس دہندگان کی رقوم اور ان کا استعمال بھی زیادہ شفاف ہو جائے گا۔

ٹوکیو حکومت کی طرف سے جاپان ایئرلائن کو آئندہ ملنے والی مالی امداد کی فراہمی اور نگرانی ETIC نامی ایک نیم ریاستی مالیاتی ادارہ کرے گا۔ اس فضائی کمپنی کے ذمہ واجب الادا رقوم کی مالیت 860 بلین ین بنتی ہے جو اس کے اثاثوں کی مجموعی مالیت سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM