1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سب سے بڑا غیر قانونی بینک: چونسٹھ ارب ڈالر بیرون ملک بھیجے

چینی حکام نے غیر قانونی طور پر کام کرنے والے ایک ایسے بینک کا پتہ چلایا ہے، جسے انہوں نے آج تک کا سب سے بڑا ’انڈر گراؤنڈ‘ بینک قرار دیا ہے، جس کے ذریعے مجموعی طور پر چونسٹھ ارب ڈالر چین سے باہر بھیجے گئے۔

شنگھائی سے ملنے والی رپورٹوں میں نیوز ایجنسی اے ایف پی نے ہفتہ اکیس نومبر کے روز جاری کردہ پولیس کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس بینک کا پتہ چین کے مشرقی شہر جِن ہوا میں چلایا گیا، جہاں سرمائے کی بیرون ملک غیر قانونی منتقلی کے ژاؤ نامی مرکزی ملزم نے اپنا ایک پورا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے ہانگ کانگ میں متعدد ایسی دکھاوے کی کمپنیاں قائم کر رکھی تھیں، جن کے ذریعے یہ غیر قانونی رقوم باقی ماندہ چین سے پہلے ہانگ کانگ اور پھر دوسرے ممالک میں منتقل کر دی جاتی تھیں۔ اس ملزم نے مختلف ناموں سے 800 سے زائد بینک اکاؤنٹ بھی کھول رکھے تھے۔

چینی حکومت نے ملک سے سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کے سلسلے میں اپنی گرفت بہت مضبوط رکھی ہوئی ہے اور اس اقدام کی وجہ یہ ہے کہ ملک سے سرمائے کے فرار کی صورت میں معیشت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اسی لیے ایک عام چینی شہری کو ابھی بھی سال بھر میں زیادہ سے زیادہ صرف 50 ہزار یوآن کے برابر رقوم کسی دوسری کرنسی میں بدلوانے کی قانونی اجازت ہوتی ہے۔

Hongkong Gebäude der Bank of China und Cheung Kong Center

ہانگ کانگ سے جعلی کمپنیوں کے ذریعے رقوم دوسرے ممالک میں منتقل کی جاتی تھیں

پولیس کے مطابق چین میں آج تک جتنے بھی غیر قانونی یا انڈر گراؤنڈ بنیکوں یا دکھاوے کے مالیاتی اداروں کا پتہ چلایا گیا ہے، یہ ان میں سے سب سے بڑا واقعہ ہے، جس کے سرغنے کو پکڑنے کے لیے خفیہ چھان بین ایک سال تک جاری رہی۔

اس دوران اس مجرمانہ کاروبار میں 300 سے زائد افراد کو ملوث پایا گیا، جن میں سے 100 کے قریب ملزمان کو یا تو سزائیں سنائی جا چکی ہیں یا عنقریب سنا دی جائیں گی۔

DW.COM