1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سب سے بڑا عالمی اجتماع: حج

ج جمعہ کو دنيا بھر سے آنے والے تقريباً ڈھائی ملين يا 25 لاکھ مسلمان سعودی عرب ميں حج کی رسومات کا آغاز کر رہے ہيں۔ حج دنيا کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔

default

حج سکيورٹی، حفاظت، صحت و علاج، نقل و حمل، رہائش اور کھانے پينےکی چيزوں کی فراہمی کے حوالے سے سعودی حکام کے ليے ايک بہت بڑا چيلنج بھی ہے۔

سعودی حکام نے حج کے فرائض کی بخوبی ادائيگی اور کسی بھی قسم کے حادثات اور ہلاکت خيز واقعات کے تدارک کے ليے سکيورٹی اور سول ڈيفينس کا تقريباً ايک لاکھ پر مشتمل عملہ تعينات کيا ہے۔ حال ہی ميں ملک کے ولی عہد بننے والے وزير داخلہ شہزادہ نائف بن عبد العزيز نے کہا: ’’ہم کسی بھی حاجی يا حاجيوں کے کسی بھی گروپ کو ہر قسم کے نقصان سے بچانے کے ليے اپنے تمام وسائل استعمال کريں گے۔‘‘ انہوں نے يہ بات حج کی تياريوں کے ايک معائنے کے دوران کہی۔ اس موقعے پر فسادات اور دہشت گردی کے انسداد کی پوليس کی پريڈ ہوئی جبکہ حفاظتی دستوں کے ہيلی کاپٹر فضا ميں چکر لگا رہے تھے۔

آج سے شروع ہونے والے مناسک حج کا نقطہء عروج ہفتے کا دن ہوگا، جب تمام حاجی مکہ سے باہر عرفات کے مقام پر جمع ہوں گے۔ اس سے اگلے دن بروز اتوار،چھ نومبرعيد الاضحٰی منائی جائے گی۔

اس حج کے موقع پر تقريباً 17 لاکھ حجاج بيرونی ممالک سے آئے ہيں، جبکہ خود سعودی عرب کے اندر سے آنے والے حجاج کی تعداد سات تا آٹھ لاکھ ہے۔

حج کے موقعے پر سانحہ: 12 جنوری سن 2006

حج کے موقعے پر سانحہ: 12 جنوری سن 2006

دنيا ميں انسانوں کا سب سے بڑے اجتماع حرمين الشرفين کے منتظم سعودی عرب کے ليے سکيورٹی کا ايک بہت بڑا چيلنج ہے۔ سعودی عرب نے ماضی کے حادثات جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے، جن ميں بہت سے حاجی کچلے جانے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے، حفاظتی انتظامات پر اربوں ڈالر کی رقم خرچ کی ہے۔

جنوری سن 2006 ميں 364 حاجی مکہ سے منا کو جانے والے راستے ميں ايک پل کے قريب کچلے جانے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ سن 2004 ميں بھی 251 حاجی کچل کر مر گئے تھے۔

سعودی حکومت نے حرم ميں توسيع کرکے اس ميں 20 لاکھ تک نمازيوں کی گنجائش پيدا کرنے کے ليے 10.6 ارب ڈالر خرچ کيے ہيں۔

سعودی وزير داخلہ نے بعض عرب مالک ميں پيش آنے والے حاليہ واقعات کو اُن کا داخلی معاملہ قرار ديا لیکن انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے ليے تيار ہے۔ انہوں نے سعودی سفير برائے امريکہ کے قتل کی حاليہ سازش کے نتيجے میں اور ماضی کے واقعات پر رياض اور تہران ميں تناؤ کی صورتحال کے باوجود شيعہ ايران کے حاجيوں کی طرف سے کسی قسم کے خطرے کو رد کرتے ہوئے کہا: ’’ايرانيوں نے ہميشہ حج کا احترام کيا ہے۔‘‘ ايرانی ميڈيا کے مطابق اس حج ميں مکہ اور مدينہ میں پہنچنے والے ايرانی حاجيوں کی تعداد 97 ہزار ہے۔ ايران کے سپريم لیڈر خامنہ ای کے حج کے نمائندے علی غازی اصغر نے پچھلے ہفتے کہا: ’’ ہميں اميد ہے کہ اس سال حج بہت پر سکون اور روحانی فضا ميں ہوگا۔‘‘

سعودی عرب کے اعلٰی ترين مذہبی رہنما شيخ عبدالعزيز الشيخ نے کہا ہے کہ سياسی وجوہات کو بنياد بنا کر حج ميں گڑبڑ پھيلانے کی کوشش کرنا گناہ ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقير

DW.COM