سب سے بڑا جاپانی ’یاکُوزا‘ گروہ تقسیم، قتل و غارت کا خطرہ | معاشرہ | DW | 29.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سب سے بڑا جاپانی ’یاکُوزا‘ گروہ تقسیم، قتل و غارت کا خطرہ

جاپان میں ’یاکُوزا‘ کہلانے والے بڑے اور بااثر مجرموں کے انتہائی منظم گروپوں میں سے سب سے بڑا جرائم پیشہ گروہ تقسیم کا شکار ہو گیا ہے۔ حکومت اور پولیس کے مطابق یہ پیش رفت قتل و غارت کی ایک بڑی لہر کی وجہ بن سکتی ہے۔

ملکی دارالحکومت ٹوکیو سے ہفتہ انتیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے ’یاکُوزا‘ گروہ میں تقسیم کی جاپانی کابینہ کی سطح پر بھی تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ ملکی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اس گروہ کے متحارب دھڑوں کے مابین اختلافات کی وجہ سے پر تشدد واقعات اور قتل و غارت کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

اٹلی کے بدنام زمانہ مافیا اور چین کے ’ٹرائی ایڈ‘ کہلانے والے منظم جرائم پیشہ گروپوں کی طرح ’یاکُوزا‘ جاپان میں ان بڑے مجرموں کے منظم گروپوں کو کہا جاتا ہے، جو بہت سے جوئے خانے اور جسم فروشی کے اڈے چلاتے ہیں اور منشیات کا غیر قانونی کاروبار بھی کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ’یاکُوزا‘ گروپوں کی طرف سے سلامتی کی ضمانت کے نام پر وسیع پیمانے پر بڑے کاروباری اداروں اور اہم شخصیات سے بھتہ بھی وصول کیا جاتا ہے اور ایسے جرائم کی سرپرستی بھی کی جاتی ہے، جن کے سلسلے میں بظاہر ان پر کوئی شک نہیں کیا جاتا۔

اپنے ہم پیشہ غیر ملکی گروپوں کے مقابلے میں ایسے اکثر گروہوں نے جاپان میں اپنے باقاعدہ ہیڈ کوارٹرز بھی قائم کر رکھے ہیں کیونکہ جاپانی قانونی نظام کی پیچیدگیوں اور مخصوص معاشرتی تاریخ کے باعث مشرق بعید کے اس ملک میں ایسے گروہ ہمیشہ ہی سرے سے غیر قانونی نہیں ہوتے۔

Yakuza Kriminalität in Japan

’یاکُوزا‘ جاپان میں جوئے خانے اور جسم فروشی کے اڈے چلاتے ہیں اور منشیات کا غیر قانونی کاروبار بھی کرتے ہیں

اے ایف پی کے مطابق اس بارے میں جاپانی کابینہ کے چیف سیکرٹری یوشی ہیڈے سُوگا نے بتایا، ’’حکومت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ جاپان کے سب سے بڑے ’یاکُوزا‘ یا منظم جرائم پیشہ گروپ، جو یاماگُوچی گُومی کہلاتا ہے، کو اپنے کئی ذیلی گروپوں کی طرف سے تقسیم اور علیحدگی کی کوششوں کا سامنا ہے۔‘‘

کابینہ کے چیف سیکرٹری نے کہا، ’’پولیس اس بارے میں اہم معلومات جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ’یاماگُوچی گُومی‘ میں اس انتشار کو پولیس کی طرف سے ایسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، جن کے نتیجے میں اس ’یاکُوزا‘ کو کمزور کیا جا سکے۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق اس جاپانی کرائم سنڈیکیٹ کے ارکان اور کارندوں کی مجموعی تعداد 23 ہزار کے قریب ہے۔ جاپانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق Yamaguchi-gumi کی اعلٰی قیادت نے اس yakuza کے 13 ذیلی گروپوں کے رہنماؤں کو اپنی صفوں سے خارج کر دیا ہے اور ان میں سے 11 اب ایک علیحدہ ’یاکُوزا‘ کی تشکیل کی کوششیں کر رہے ہیں۔

Yakuza Kriminalität in Japan

’یاکُوزا‘ گروپوں کی طرف سے کاروباری اداروں اور اہم شخصیات سے بھتہ بھی وصول کیا جاتا ہے

جاپانی نیوز ایجنسی کیوڈو نے لکھا ہے کہ ملکی پولیس کو انتہائی چوکنا کیا جا چکا ہے کیونکہ ہزار ہا ارکان پر مشتمل اس ’یاکُوزا‘ کی تقسیم کا نتیجہ مختلف جرائم پیشہ گروپوں کے مابین ایک خونریز ’گینگ وار‘ کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

ٹوکیو میں ملکی پولیس کی اعلٰی کمان کی طرف سے آج ہفتے کے روز اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جبکہ متعدد اخبارات نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’یاکُوزا‘ گروپوں سے متعلق تازہ ترین صورت حال پر مشوروں کے لیے نیشنل پولیس ایجنسی کا ایک ہنگامی اجلاس آئندہ بدھ دو ستمبر کے روز ہو گا۔