1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

سبزیوں اور پھلوں سے پولن فوڈ الرجی

پولن الرجی سے سانس لینے میں تکلیف اور گلے کی سوزش، آنکھوں میں سرخی اور ناک کا بہنا تو عام تھا لیکن اب مختلف سبزیوں اورپھلوں سے معدے میں درد یا مروڑ کو بھی پولن فوڈ الرجی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

default

محققین نے اشارہ دیا ہے کہ اگر سیب کھاتے ہوئے منہ میں ناخوشگوارسنسناہٹ پیدا ہو یا بطور سلاد سبزیاں کھانے کے بعد پیٹ میں مروڑ اٹھیں تو یہ امکاناً پولن فوڈ الرجی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت حال ان افراد میں پیدا ہو سکتی ہے، جو الرجی کے مریض ہوتے ہیں اور جن کا اعصابی نظام بعض سبزیوں اور پھلوں میں پائی جانے والی پروٹین سے حساسیت رکھتا ہو۔

جرمن سوسائٹی برائے الرجولوجی اور کلینیکل امیونولوجی (Allergology and Clinical Immunology) کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن ژورگ کلائنے ٹیبے (Joerg Kleine-Tebbe) کا خیال ہے کہ نوعمری میں دی جانے والی مختلف مدافعتی ادویات کا بھی اس صورت حال میں اہم کردار ہوتا ہے اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ سخت لکڑی والے برچ (Birch) پیڑوں کے زرگل یا پولن سے لوگ الرجی رکھتے ہیں۔

Bio-Food Obst-Gemüse-Regal aus dem Bioladen

پھل اور سبزیاں بھی الرجی کا باعث ہو سکتی ہیں

ریسرچرز  کا خیال ہے کہ  برچ قسم کے درختوں میں پائی جانے والی سٹریس پروٹین اُسے مختلف  وائرس، بیکٹیریا اور موسمیاتی پریشر میں مدافعت فراہم کرتی ہے۔ بقیہ درختوں اور ان کے پھلوں میں بھی ایسی پروٹین موجود ہوتی ہے اور اس جب کھا لیا جاتا ہے تو انسانی کا مدافعتی نظام کنفیوز ہو کر الرجی کا شکار ہو جاتا ہے۔

ژورگ کلائنے ٹیبے کا پولن فوڈ الرجی کی مناسبت سے مزید کہنا ہے کہ اسی سٹریس پروٹین کی وجہ سے ستر فیصد افراد کے مدافعتی نظام مختلف پھلوں اور سبزیوں سے الرجی یا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ کلائنے ٹیبے کے خیال میں امکاناً الرجی کا باعث بننے والے ایسے پھلوں اور سبزیوں میں سیب، گری دار سخت خول والے میوہ  جات، چیری، آڑو، گاجر، سلاد اور سویا بین خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ریسرچ کے مطابق ایسے تازہ پھل اور سبزیاں معدے میں درد اور بے چینی کا سبب بن سکتے ہیں اور اگر یہ پکائے جائیں تو ان پھلوں یا سبزیوں کی اسٹریس پروٹین صرف اپنی ہئیت میں تبدیلی لاتی ہیں لیکن ان کا الرجی کا سبب بننے والا پہلو برقرار رہتا ہے۔

Symbolbild Studentenfutter

انسانی بدن میں اسٹریس پروٹین الرجی پیدا کرسکتی ہیں

جرمن شہر ہینوور  کے میڈیکل اسکول کے جلد، الرجی اور جنسی امراض کے کلینک کے محقق تھوماس ویرفیل (Thomas Werfel)  کا خیال ہے کہ خوراک کے ساتھ انسانی جسم کا ردعمل کلی طور پر مقامی ہونے کے ساتھ ساتھ مقام اور وقت کے ساتھ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ ویرفیل کے مطابق خوراک کے ری ایکشن میں جلد کا سرخ ہونا اور کھجلی  کے علاوہ  منہ اور گلے کی سوزش ممکن ہے۔ ویرفیل کے نزدیک فوڈ پولن الرجی سے دمہ کی شکایت اور گلے کی انتہائی زیادہ سوجن بہت ہی کم دیکھنے میں آتی ہے۔

محققین کا خیال ہے کہ فوڈ پولن الرجی میں جن پھلوں اور سبزیوں سے انسانی جسم کوئی ری ایکشن ظاہر کرے، ان کو نظر انداز کرنا مفید تو ہوتا ہے لیکن ایسی تقریباً سبھی قوت بخش اشیاء سے پرہیز بھی انسانی جسم پر منفی اثرات پیدا کرتا ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  مقبول ملک

 

DW.COM

ویب لنکس