1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ساڑھے تین ہزار سال پرانی ملکہ کی تلاش

شہرہٴ آفاق مصری ملکہ نفرتیتی کی باقیات ملنے کی امیدیں پھر سے جاگ اٹھی ہیں۔ ایک برطانوی ماہر آثار قدیمہ کے مطابق اس بات کا امکانات بہت روشن ہیں کہ وہ وقت کے فسوں میں چھپی ملکہ نفرتیتی تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہر مصریات نے کہا ہے، وہ اس بات پر مزید تحقیق کریں گے کہ مصر کے قدیم نوجوان بادشاہ توتان خامون کے مقبرے میں ایسے خفیہ راستے موجود ہیں جو ممکنہ طور پر ایک چھپے ہوئے چیمبر تک جاتے ہیں۔ اس برطانوی ماہر کو یقین ہے کہ وہ خفیہ چیمبر ملکہ نفرتیتی کی آخری رہائش گاہ ہے۔

نکولس رِیویس نے ہفتہ 28 نومبر کو اپنے منصوبے کا اعلان مصر کے وزیر برائے آثار قدیمہ ممدوح الدماتی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ الدماتی کا کہنا تھا کہ اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ ایک خفیہ چیمبر موجود ہے اور یہ کہ اب تک کی گئی تحقیق کا ڈیٹا مزید تجزیے کے لیے جاپان لے جایا جائے گا۔

ممدوح الدماتی کے مطابق، ’’قبل ازیں ہمارا خیال تھا کہ اس بات کے 60 فیصد امکانات ہیں کہ دیواروں کے پیچھے کچھ نہ کچھ موجود ہے۔ لیکن اس مقام کے کیے گئے اسکینز کے ابتدائی تجزیے کے بعد اب ہم کہہ رہے ہیں کہ ان دیواروں کے پیچھے کچھ موجود ہونے کے امکانات 90 فیصد تک ہیں۔‘‘

ماہرین کا خیال ہے کہ مصر کے قدیم نوجوان بادشاہ توتان خامون کے مقبرے میں ایسے خفیہ راستے موجود ہیں جو ممکنہ طور پر ایک چھپے ہوئے چیمبر تک جاتے ہیں

ماہرین کا خیال ہے کہ مصر کے قدیم نوجوان بادشاہ توتان خامون کے مقبرے میں ایسے خفیہ راستے موجود ہیں جو ممکنہ طور پر ایک چھپے ہوئے چیمبر تک جاتے ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو ملکہ نفرتیتی کی آخری رہائش گاہ کی دریافت اس صدی کی سب سے اہم دریافت ہو گی۔ اس سے مصری تاریخ کے اب تک نامعلوم گوشوں پر روشنی پڑنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ عالمی سطح پر دلچسپی اور سخت کوششوں کے باوجود اب سے پہلے تک ایسا نظر نہیں آ رہا تھا۔

گالوں کی نسبتاﹰ ابھری ہوئی ہڈیوں اور ملکوتی حسن کی مالک ملکہ نفرتیتی کا انتقال ماہرین آثار قدیمہ کے اندازوں کے مطابق 14 صدیاں قبل از مسیح میں ہوا تھا۔ نفرتیتی کے حسن کو 3300 برس قبل بنائے گئے چہرے کے ایک مجسمے میں سمو دیا گیا تھا جو آج کل برلن کے ایک عجائب گھر میں موجود ہے۔