1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ساڑھے تین ہزار اضافی امریکی فوجی افغانستان جائیں گے

امریکی سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن حکومت افغانستان میں تقریبا ساڑھے تین ہزار اضافی فوجی روانہ کرے گی، جو مقامی فوجیوں کو تعاون فراہم کریں گے۔ دوسری طرف طالبان ان غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان میں تقریبا ساڑھے تین ہزار اضافی امریکی فوجی تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے تحت پہلے سے ہی اندازے لگائے جا رہے تھے کہ امریکا افغانستان میں کم و بیش اتنے ہی اضافی فوجی روانہ کرے گا۔ کچھ امریکی اہلکاروں نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر یہ معلومات روئٹرز کو مہیا کی ہیں۔

کیا افغانستان کی معدنیات نے ٹرمپ کی سوچ تبدیل کی؟

جدید تربیت یافتہ افغان کمانڈوز اب طالبان کا مقابلہ کریں گے

ٹرمپ کی افغان پالیسی، جنوبی ایشیا مزید غیر مستحکم ہو جائے گا؟

ویڈیو دیکھیے 00:52

افغانستان میں سب سے بڑا غیر ایٹمی بم گرنے کے مناظر

بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میرین جنرل جوزف ڈنفورڈ نے بدھ کے دن کانگریس کے ممبران کے ساتھ بند کمرے میں ملاقات کی، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیا کے لیے نئی پالیسی پر گفتگو کی گئی۔

اس ملاقات کے بعد امریکی محکمہ دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب تک وزیر دفاع افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کرتے، تب تک یہ معلومات فراہم نہیں کی جائیں گی کہ امریکا افغانستان میں کتنے اضافی فوجی تعینات کرے گا۔ تاہم سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ افغانستان میں تقریبا ساڑھے تین ہزار اضافی فوجی روانہ کیے جائیں گے۔

اگر ان خبروں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی مجموعی معلوم تعداد چودہ ہزار پانچ سو ہو جائے گی۔ حالیہ عرصے میں افغان طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی خاطر مقامی سکیورٹی فورسز کو مشکلات کا سامنا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی جیمز میٹس نے کہا تھا کہ افغانستان میں اضافی امریکی فوجی روانہ کرنے کے حوالے سے انہوں نے ایک حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں تاہم ان فوجیوں کی تعداد نہیں بتائی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس سے مشاورت کے بعد ہی درست اعدادوشمار جاری کیے جائیں گے۔ ایسے خبریں بھی موصول ہوئی ہیں کہ امریکی صدر نے اپنے وزیر دفاع کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ چار ہزار اضافی فوجی افغانستان روانہ کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف افغان طالبان متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بغیر اس شورش زدہ ملک میں امن ممکن نہیں ہے۔ افغانستان کی طویل جنگ کے نتیجے میں اب تک تیئس سو سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مختلف پرتشدد واقعات میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سترہ ہزار سے زیادہ بنتی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic