1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ساڑھے تین لاکھ افغان مہاجرین کی پاکستان سے وطن واپسی مکمل

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین اس سال پاکستان سے واپس اپنے وطن افغانستان پہنچے ہیں جبکہ  توقع ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

Pakistan Afghanistan Flüchtlinge kehren zurück (Getty Images/AFP/J. Tanveer)

تازہ اعداد وشمار کے مطابق واپس لوٹنے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے

 

رواں برس اکتوبر کے آغاز میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے کہا تھا کہ پاکستان سے اپنے ملک واپس لوٹنے والے رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم اس ہفتے یو این ایچ سی آر کے افغانستان میں انسانی امور کے رابطے کے لیے آفس  یا’ آفس فار دی کو آرڈینیشن آف ہیومینٹیرین افیئرز ‘کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تازہ اعداد وشمار کے مطابق واپس لوٹنے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ان افراد میں غیر اندراج  شدہ مہاجرین  بھی شامل ہیں۔ او سی ایچ اے کے بیان کے مطابق رواں برس اب تک پاکستان سے وطن واپس آنے والے غیر رجسٹر شدہ مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ باسٹھ ہزار ایک سو چھیاسی ہے جبکہ رجسٹرڈ پناہ گزینوں کی حیثیت سے دو لاکھ سات ہزار دو سو چھتیس افراد کی واپسی کا اندراج کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ،’’ موجودہ رحجانات کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی ہے کہ رواں برس کے اختتام سے قبل مزید چار لاکھ چھیالیس ہزار مہاجرین پاکستان سے اپنے ملک واپس لوٹیں گے۔ ان میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ دونوں طرح کے افغان مہاجرین شامل ہیں۔‘‘

Pakistan Afghanistan Flüchtlinge kehren zurück (Getty Images/AFP/A. Majeed)

یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ایک اعشاریہ چار ملین رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے

 افغانستان میں حکام پہلے ہی انسانی بحران کے حوالے سے خبر دار کر چکے ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ جنگ کے باعث ہزاروں افغانی باشندے ملک کے دوسرے علاقوں میں ہجرت کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی نے جنگ زدہ افغانستان کو مشکلات سے دو چار کر دیا ہے۔

 رواں برس کے آغاز سے افغانستان میں داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی کل تعداد تین لاکھ تئیس ہزار پانچ سو کے قریب ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان سن انیس سو اناسی میں افغانستان پر سوویت حملے کے بعد سے ہجرت کر کے آنے والے لاکھوں افغان باشندوں کئی عشروں سے میز بانی کرتا چلا آ رہا ہے۔

 مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے رواں سال کے آغاز میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ایک اعشاریہ چار ملین رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق مزید دس لاکھ غیر اندراج شدہ مہاجرین بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر مہاجرین کی میزبانی کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ سن دو ہزار نو سے اسلام آباد حکومت بار بار افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے ڈیڈ لائن مقرر کرتی رہی ہے تاہم اب ایسے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ  افغان مہاجرین کی واپسی کے لیےمارچ سن دو ہزار سترہ کی تاریخ حتمی ثابت ہو گی۔