1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ساٹھ ہزار پناہ گزین جرمن سرحدی صوبے سے سویڈن پہنچے

جرمن صوبے شلیسوِگ ہولسٹائن کے وزیر اعلیٰ ٹورسٹن البیش نے بتایا ہے کہ تقریبا ﹰساٹھ ہزار کی تعداد میں مہاجرین کو رجسٹر کیے بغیر جرمنی سے سویڈن جانے کی اجازت دی گئی۔ یہ صوبہ جرمنی اور ڈنمارک کی سرحد پر واقع ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ساٹھ ہزار سے زائد تارکین وطن جرمن سرحدی صوبے شلیسوِگ ہولسٹائن سے سویڈن چلے گئے۔ ان پناہ گزینوں کو جرمنی میں رجسٹر کیے بغیر ڈنمارک کے راستے جرمنی سے چلے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

شلیسوِگ ہولسٹائن صوبائی وزیر اعلیٰ ٹورسٹن البیش کا کہنا تھا، ’’حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے بھی انہیں (رجسٹر کیے بغیر) جانے کی اجازت دے کر ڈبلن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ لیکن دوسری طرف یوں جرمنی پر مہاجرین کو بوجھ بھی کچھ کم ہوا ہے۔‘‘

وزیر اعلیٰ البیش کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جو مرکزی حکومت میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی اتحادی بھی ہے۔ البیش نے یہ بات یورپی یونین کے مہاجرین سے متعلقہ قوانین کے بارے میں جرمن جریدے ’ویلٹ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ ڈبلن معاہدے کے مطابق تارکین وطن کو اسی ملک میں پناہ کی درخواست دینا ہوتی ہے جہاں سے وہ سب سے پہلے یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ان مہاجرین کو جرمن تارکین وطن کے اعداد و شمار میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے البیش کا کہنا تھا کہ ان تارکین وطن نے ’ہمیں واضح طور پر بتا دیا تھا کہ وہ سویڈن میں پناہ کی درخواست دینا چاہتے ہیں‘۔

ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا، ’’تارکین وطن کو رجسٹر کیے بغیر سویڈن جانے کی اجازت دے کر عملی طور پر ہم نے بھی آسٹریا جیسا ہی کام کیا۔ وہ بھی تو رجسٹر کیے بغیر مہاجرین کو جرمنی بھیج دیتے ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کی حمایت میں کہا، ’’لیکن مہاجرین کو بھیجنے سے پہلے ہم سٹاک ہوم اور کوپن ہیگن انتظامیہ کے ساتھ اس بارے میں تفصیلی بات چیت کرتے ہیں۔‘‘

یورپ میں جاری مہاجرین کے حالیہ بحران کے دوران اگرچہ سب سے زیادہ تارکین وطن جرمنی میں پہنچے ہیں۔ تاہم سویڈن نے آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔

DW.COM