1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سان فرانسسکو سے لاہور تک

پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کرنے کے لیے معاشیات کی ڈگری حاصل کرنے والا چوبیس سالہ معین خان مختلف براعظموں سے ہوتے ہوئے امریکی شہر سان فرانسسکو سے لاہور تک کا سفر کر رہا ہے۔

default

معین خان

پانچ برس قبل پاکستان سے کیلیفورنیا تعلیم کی غرض سے آنے والا معین خان امریکہ اور پاکستان دونوں ہی ملکوں کو اپنا گھر تصور کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں اسے ہمیشہ ہی پاکستان سے متعلق منفی خبریں سننے کو ملیں۔  معین نہ صرف مغرب میں پاکستان کی منفی تصویر پیش کیے جانے پر فکر مند تھا بلکہ اسے یہ بھی پریشانی تھی کی پاکستان میں اس کے نئے گھر امریکہ کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی تصور پایا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے معین خان نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان اور مغربی عوام کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرے گا۔ اس مقصد کے لیے اس نے فیصلہ کیا کہ موٹر سائیکل کے ذریعے دنیا کے مختلف بر اعظموں کا چکر لگاتا ہوا لاہور تک جائے گا۔

معین خان نے اپنے سفر کا آغاز سان فرانسسکو کے ’گولڈن گیٹ برج‘ سے کیا۔ یہ پل سان فرانسسکو کی ثقافتی علامت ہے اور اب معین مختلف تہذیبوں کے درمیان بھی ایک ایسا ہی پل تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ معین نے اپنے سفر کی تیاری کے دوران ہی لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔ ایک ویب سائٹ پر وہ اپنے تجربات پر مبنی تحریریں بلکہ تصویریں بھی شائع کرتا رہتا ہے۔ فیس بک پر اپنا ایک پیج بنانے کے علاوہ معین نے ایک آئن لائن بلاگ بھی بنا رکھا ہے، جن پر وہ اپنی ناکامیوں اور کامیابیوں پر مشتمل روزانہ کے تجربات اور سفری مشکلات کے بارے میں لکھتا رہتا ہے۔

Deutschland Pakistan Moin Khan mit dem Motorrad unterwegs

دریں اثنا اس کے مداحوں کی تعداد چار ہزار ہو چکی ہے۔ ان میں سے اکثر افراد نہ صرف اسے مختلف راستوں سے متعلق معلومات بلکہ اسے رات گزارنے کے لیے رہائش بھی فراہم کرتے ہیں۔

اپنے سفر کے آغاز کے تقریبا پینتالیس روز بعد معین امریکہ، کینیڈا اور انگلینڈ سے ہوتا ہوا اب جرمنی پہنچا ہے۔

سات دن کے دوران مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے وہ جمہوریہ چیک پہنچے گا، جس کے بعد فرانس، اٹلی، آسٹریا، ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، ترکی اور ایران سے ہوتا ہوا وہ لاہور پہنچنا چاہتا ہے۔

معین خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سفر کے دوران ملنے والے افراد کو بتائے گا کہ پاکستان ویسا نہیں ہے، جیسا کے اسے پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ اسلامی ممالک میں مغربی ملکوں سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیاں بھی دور کرنا چاہتا ہے۔

اپنے سفر کے دوسرے مرحلے پر معین خوفزدہ بھی نظر آتا ہے۔ معین خان کے مطابق اب وہ ان ملکوں میں داخل ہو رہا ہے، جہاں کی زبان سے بھی وہ ناواقف ہے۔ معین کے مطابق سفر کے دوران اس پر کوئی حملہ بھی کر سکتا ہے جبکہ اس کی جمع شدہ رقم بھی اب ختم ہونے کو ہے۔ اسی وجہ سے معین نے عطیات حاصل کرنے کے لیے ایک اکاؤنٹ بھی کھول رکھا ہے۔  معین خان ہر حال میں اپنا سفر مکمل کرتے ہوئے رواں برس نومبر تک اپنی جائے پیدائش لاہور تک پہنچنا چاہتا ہے، چاہے اسے پیدل سفر کرنا پڑے یا پھر اپنے محبوب موٹر سائکل پر۔

رپورٹ: راحل بیگ / امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین