1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سانپ رات کے اندھیرے میں کیسے دیکھ لیتے ہیں

سانپ کس طرح تین فٹ کے فاصلے تک موجود ایک چوہے کی معمولی جسمانی حدت کو محسوس کرتے ہوئے اسے شکار کر سکتے ہیں؟ 'نیچر' میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سائنس دانوں نے پہلی مرتبہ اس راز پر سے پردہ اٹھایا ہے۔

default

محققین کئی دہائیوں سے یہ تو جانتے ہیں کہ سانپوں کی مختلف اقسام مثلاﹰ کے Pythons یعنی اژدھے اور ٹٹیریا سانپوں یعنی Rattlesnakes کی آنکھوں اور نتھنوں کے درمیان ایک گڑھے کی شکل کا عضو ہوتا ہے جس کی مدد سے وہ انتہائی کمزور انفرا ریڈ شعاؤں اور حدت کو محسوس کرسکتے ہیں۔ جنوبی میکسیکو اور شمال مغربی امریکا میں پائی جانے والی ٹٹیریے سانپ کی ایک قسم جسے 'ویسٹرن ڈائمنڈ بیک ریٹل سنیک' Western Diamondback Rattlesnake کہا جاتا ہے اس حوالے سے بہت ہی غیر معمولی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان سانپوں میں حدت محسوس کرنے یا اس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شکار تک پہنچنے کی صلاحیت باقی سانپوں کی نسبت دس گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ان سانپوں کی آنکھوں کو اگر ڈھانپ بھی دیا جائے تو تب بھی یہ اپنے شکار کو بالکل درست طور پر تلاش کرکے شکار کر لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Schlange in Tasmanien, Australien

سانپوں کی ایک قسم میں میں حدت محسوس کرکے اپنے شکار تک پہنچنے کی صلاحیت دس گنا زیادہ ہوتی ہے۔

محققین کے لئے یہ سوال ابھی تک ایک راز تھا کہ آخرکس طرح انفرا ریڈ شعاؤں کو محسوس اور استعمال کرتے ہوئے سانپوں کے اعصاب اس معلومات کو ذہن تک منتقل کرتے ہیں اور پھر ان کا ذہن کیسے اس وجود کی درست تصویرکشی کرتا۔

اس سلسلے میں ایک اہم مفروضہ 'فوٹو کیمیکل پروسیس' رہا ہے جس کے مطابق اس صلاحیت کی حامل آنکھیں برقی مقناطیسی لہریں یعنی الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مفروضے کے مطابق الیکٹرومیگنیٹک شعاعیں فوٹانز یعنی توانائی کے پیکٹوں کی صورت میں دماغ میں موجود عصبی خلیوں تک پہنچتی ہیں جو اس توانائی کو بائیو کیمیکل سگنلز میں تبدیل کرکے دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ اس کی مثال مچھلیوں کی چند اقسام ہیں جوانفراریڈ شعاؤں میں بھی دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

لیکن سان فرانسسکو کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کے مالیکولر بائیولوجسٹ ڈیوڈ جولیس نے لیبارٹری میں تجربات سے اب ثابت کیا ہے کہ سانپوں کی اس 'چھٹی حس' کی وجہ ان میں ایک مختلف طرح کا اعصابی نظام ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک نیا خلیہ بھی دریافت کیا ہے جسے TRPA1کا نام دیا گیا ہے۔

Eine Tigerpyhton: Schlange schlüpft aus ihrem Ei

تحقیق کے مطابق انفرا ریڈ لہریں دراصل سانپوں کی آنکھوں اور نتھنوں کے درمیان موجود گڑھے کی شکل کے عضو 'پِٹ آرگن' میں گرمی کی شکل میں محسوس کی جاتی ہیں

جولیس کے مطابق انفرا ریڈ لہریں دراصل سانپوں کی آنکھوں اور نتھنوں کے درمیان موجود گڑھے کی شکل کے عضو 'پِٹ آرگن' میں گرمی کی شکل میں محسوس کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پٹ آرگن دراصل اندر سے کھوکھلی ہڈی سے بنا ہوتا ہے جس کے اندر ایک بہت ہی باریک جھلی موجود ہوتی ہے۔ جولیس کے مطابق کھوکھلے مقام پر موجود ہونے کے سبب یہ جھلی اس درجہ حرارت میں معمولی ترین تبدیلی کو بھی محسوس کر سکتی ہے جو اس عضو کے جلد میں موجود ایک سوراخ کے ذریعے اندر پہنچتا ہے۔

درجہ حرارت سے متاثر ہونے والی یہ جھلی اس حدت کو سگنلز کی شکل میں اعصابی ریشوں کے ذریعے دماغ میں موجود ان مخصوص اعصاب یعنی ریسپٹرز TRPA1 تک پہچاتی ہے جنہیں جولیس کی ٹیم نے دریافت کیا ہے۔

ڈیوڈ جولیس کے مطابق اس سارے نظام میں شریک نیوروکیمیکل راستے کے مشاہدے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سانپ حدت کو دیکھنے کے بجائے اسے محسوس کرتے ہے۔

جولیس کا کہنا ہے کہ دریافت کردہ خلیہ دراصل ممالیہ جانوروں میں درد یا تکلیف کا احساس دلانے والے اعصابی خلیوں سے ملتا جلتا ہے۔ ڈیوڈ جولیس کا کہنا ہے کہ انسانوں میں بھی اسی طرح کا ایک نظام موجود ہے جسے واسابی ریسپٹرز‘Wasabi Receptors' کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ نظام کسی خارش یا تکلیف دہ چیز کو محسوس کرتے ہی ہماری حسیات سے متعلق اعصابی نظام کو متحرک کردیتا ہے۔ تاہم یہ نظام حرارت یا حددت کو محسوس کرتے ہوئے متحرک نہیں ہوتا۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عدنان اسحاق

Audios and videos on the topic