1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سانحہ کوئٹہ، عدالتی کمیشن کی حکومتی نا اہلی پر تنقید

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے قائم کردہ کمیشن نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک میں اسلامی انتہا پسندی اور شدت پسندی کی روک تھام میں ناکام ہو گئی ہے۔

Pakistan Gericht (Getty Images/AFP/A. Qureshi)

سپریم کورٹ کے عدالتی کمیشن کی رپورٹ چھیاسی صفحات پر مشتمل ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے بنائے گئے ایک کمیشن نے رواں سال اگست میں پاکستان کے شہر کوئٹہ میں طالبان کی جانب سے کیے گئے ایک حملے کی تحقیقات کے تناظر میں آج بروز جمعہ مورخہ سولہ دسمبر کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے۔

 کوئٹہ میں ہوئے اس حملے میں 70 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تعداد وکلاء کی تھی۔ سپریم کورٹ کے عدالتی کمیشن کی رپورٹ چھیاسی صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں پینتالیس حکومتی اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  پاکستان کی وزارتِ داخلہ اور محکمہ انسداد دہشت گردی سکیورٹی کی اُن خامیوں کے لیے ذمّہ دار ہیں جن کے باعث طالبان کے لیے حملہ کرنا ممکن ہوا۔ رپورٹ میں کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’یہ ادارے اپنے فرائض کی بجا آوری  میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔‘‘ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ اس رپورٹ کے کیا اثرات مرتب ہوں گے یا مستقبل میں کن خطوط پر کام کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ  امسال  آٹھ اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال کے سامنے کیا جانے والا خود کش بم حملہ پاکستان میں سب سے زیادہ انسانی ہلاکتوں کا سبب بننے والے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا اور اس بم دھماکے کی ذمے داری پاکستانی طالبان کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے بھی قبول کر لی تھی۔

Pakistan Quetta Bombenanschlag vor einer Klinik (Getty Images/AFP/B. Khan)

  آٹھ اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال کے سامنے ہونے والا خود کش بم حملہ پاکستان میں بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا

یہ خود کش بم دھماکا اس وقت کیا گیا تھا جب ایک حملے میں مارے جانے والے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کی میت وصول کرنے کے لیے قریب دو سو وکلاء سول ہسپتال کے باہر موجود تھے۔ اس حملے میں کم از کم دو صحافی بھی ہلاک ہو گئے تھے کیونکہ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی۔

 عدالتی کمیشن کی رپورٹ سانحہ پشاور کے دو سال پورے ہونے کے موقع پر جاری کی گئی ہے۔ سولہ دسمبر سن دو ہزارچودہ میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان نے حملہ کیا تھا جس میں ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔ 

ویڈیو دیکھیے 03:07

پاکستان میں زندگی مشکل ہو گئی تھی، پاکستانی ہزارہ مہاجر حسین

DW.COM

Audios and videos on the topic