سانحہ قصور: زینب کا قاتل گرفتار نہیں ہو سکا | حالات حاضرہ | DW | 12.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سانحہ قصور: زینب کا قاتل گرفتار نہیں ہو سکا

سانحہ قصور کے تیسرے روز بھی قصور شہر میں حالات پوری طرح معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ لمبے چوڑے بیانات اور حکومتی دعووں کے باوجود سات سالہ کم سن بچی زینب انصاری کے قاتل کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

پنجاب حکومت کے ترجمان ملک محمد احمد علی خان نے تاہم کہا ہے کہ نئے ملنے والے شواہد کے باعث وہ قاتلوں کے قریب پہنچ چکے ہیں اور جلد ھی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

اور کتنی زینبیں سماجی، سیاسی زبوں حالی کی بھینٹ چڑھیں گی؟

پولیس نے زینب کی تلاش میں سست روی سے کام لیا، انیس انصاری

کم سن بچی کا قتل، پاکستان سکتے میں

پنجاب حکومت کے صوبائی وزیر رانا مشہود خان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ قصور میں احتجاجی مظاہروں کی فوٹیج کے جائزے سے معلوم ہوا ہے،کہ ان مطاہروں میں باہر سے آئے ہوئے تربیت یافتہ لوگ بھی شامل تھے، جو امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کا باعث بن رہے تھے۔ ’’انہیں شناخت کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:22

قصور سانحے کے بعد مقامی افراد کا ردعمل

ادھر لاہور ہائی کورٹ نے بھی جمعے کے روز پنجاب پولیس کے سربراہ کو زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے کے لیے چھتیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے پنجاب بھر میں ننھی بچیوں اور بچوں سے زیادتی کے تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب عارف نواز خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں، ملزم کی نشان دہی کرنے والے کے لیے ایک کروڑ انعام بھی رکھ دیا گیا ہے۔ عدالتی استفسار پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں قصور میں کم سن بچوں سے زیادتی کے گیارہ واقعات ہوئے جب کہ دو سو ستائیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے سڑسٹھ افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا۔

 قصور کے ایک رہائشی راؤ اختر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ اس سے پہلے جنسی درندگی کا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزائیں نہیں مل سکی تھیں، اس لیے ان واقعات میں اضافہ ہوتا رہا۔

پنجاب حکومت نے زینب کے والد امین انصاری کے مطالبے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر محمد ادریس کو تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے آج قصور میں ایک مصروف دن گزارا۔ انہوں نے سرکاری حکام اور زینب کے گھر والوں سے بھی ملاقات کی اور جائے واردات کا جائزہ لیا۔

قصور میں آج بھی زینب کے گھر میں تعزیت کرنے کے لیے آنے والوں کا رش رہا۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان محمد افتخار چوہدری، پیپلز پارٹی کے قمر الزماں کائرہ اور شیخ رشید نے بھی قصور آکر زینب کے والد سے تعزیت کی۔اس موقعے پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ صرف غریب لوگ ہی معاشرے میں ظلم کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔ انہوں نے شریف فیملی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں شریف فیملی کے اقتدار کا صفایا ہو جائے گا۔

زینب کے گھر کے باہر اور اسٹیل چوک کے قریب اس وقت بھی احتجاجی مظاہرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اور وہ وقفے وقفے سے حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ شہر کے تمام بڑے چوکوں میں پولیس کے مسلح اہلکار تعینات ہیں، جب کہ شہر کی بڑی سڑکوں پر رینجرز کا فلیگ مارچ بھی جاری ہے۔ آج قصور میں نماز جمعہ کے وقت شدید حفاطتی انتظامات کیے گئے تھے، کئی مساجد میں لوگوں کو پر امن رہنے کی اپیل بھی کی گئی۔

ننھی زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری کر دی گئی ہے، اس رپورٹ کے مطابق زینب کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ ادھر پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن نے حکومت سے کہا ہے کہ عارضی اقدامات کی بجائے بچوں کے تحفظ کے لیے دیرپا اور موثر اقدامات کیے جانا چاہیئں۔ کمیشن نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت بتا سکتی ہے کہ زینب سے پہلے جن 11 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، ان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے حکومت نے کیا کیا ہے۔  کمیشن کے مطابق 2016 میں 4139 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic