1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سانحہ بھوپال: مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کی اپیل مسترد

بھارتی سپریم کورٹ نے آج بدھ کو حکومت کا یہ مطالبہ رد کر دیا کہ 1984 کے سانحہ بھوپال کے سات سزا یافتہ مجرموں کو زیادہ سخت سزائیں سنائی جائیں۔

default

بھارتی سپریم کورٹ

بھوپال میں فوری طور پر ہزاروں افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والی زہریلی گیس کے اخراج کی وجہ سے پیش آنے والے اس حادثے کی ذمہ داری امریکی کیمیکل گروپ یونین کاربائیڈ پر ڈالی گئی تھی۔ یہ حادثہ اس امریکی صنعتی گروپ کی بھوپال میں کام کرنے والی ایک فیکٹری میں پیش آیا تھا۔ اس سانحے میں نہ صرف ہزاروں بھارتی شہری موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے بلکہ زہریلی گیس کے اثرات کی وجہ سے کئی سال بعد تک ہلاکتوں کی تعداد بھی کئی ہزار بنتی ہے۔

Flash-Galerie Mutter Teresa

اس حادثے کی ذمہ داری امریکی کیمیکل گروپ یونین کاربائیڈ پر ڈالی گئی تھی

سانحہ بھوپال سے متعلق مقدمے میں برسوں سے جاری رہنے والی کارروائی کے بعد ایک بھارتی عدالت نے اپنا فیصلہ گزشتہ برس سنایا تھا۔ اس فیصلے میں یونین کاربائیڈ کے اس دور کے سات اعلیٰ اہلکاروں کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

اس پر بھارتی حکومت نے ان سزا یافتہ افراد کے خلاف دوبارہ ایک مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ اس مقدمے میں بھارتی سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مجرم صرف غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کے خلاف نادانستہ انسانی ہلاکتوں کے الزام میں نئے سرے سے کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس بارے میں حکومتی وکلاء کا موقف یہ تھا کہ اس سانحے میں ہزار ہا شہریوں کی ہلاکت کے پیش نظر ان ملزمان کو زیادہ سخت سزائیں سنائی جائیں۔ نادانستہ انسانی ہلاکتوں کے الزام میں ان مجرموں میں سے ہر ایک کو زیادہ سے زیادہ دس سال تک قید کی سزا ہو سکتی تھی۔

اس سے قبل مدھیہ پردیش کی ریاستی عدالت نے ان مجرموں میں سے ہر ایک کو دو دو سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ اتنی کم سزاؤں پر اس بھارتی ریاست میں اس حادثے کے متاثرین نے بڑے غصے کا اظہار کیا تھا۔ بعد میں وسطی بھارتی شہر بھوپال میں اس سانحے کے متاثرین اس لیے بھی ناامید ہو گئے تھے کہ یونین کاربائیڈ کے سابق اہلکاروں کو سنائی گئی ان سزاؤں کے بعد ان کی ضمانتیں بھی منظور ہو گئی تھیں۔

اس بارے میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی بنچ نے آج بدھ کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے گزشتہ عدالتی فیصلے کے خلاف جو اپیل دائر کی گئی، وہ غلط ہے۔ اس کے علاوہ اس بنچ کے ارکان نے یہ بھی کہا کہ یہ اپیل بہت دیر سے دائر کی گئی۔ مزید یہ کہ اس میں حکومت کی طرف سے مجرموں کے خلاف کوئی نئے تسلی بخش ثبوت بھی مہیا نہیں کئے گئے۔

واضح رہے کہ ماضی میں یونین کاربائیڈ انڈیا میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے سات افراد کے خلاف غفلت سے متعلق عدالتی الزامات 1996 میں عائد کئے گئے تھے۔ ایسا بھارتی سپریم کورٹ کے حکم پر کیا گیا تھا۔ تب سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ بھی دیا تھا کہ ان افراد کے خلاف نادانستہ لیکن قابل سزا انسانی ہلاکتوں سے متعلق الزامات عائد نہیں کیے جا سکتے تھے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس