سامان کی واپسی: مزید فوجی افغانستان بھیجے جا سکتے ہیں، نیٹو | حالات حاضرہ | DW | 29.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سامان کی واپسی: مزید فوجی افغانستان بھیجے جا سکتے ہیں، نیٹو

نیٹو نےکہا ہےکہ افغانستان سے عسکری سامان کی واپسی کے کام میں مدد دینے کے لیے وہاں عارضی طور پر مزید فوجی بھیجے جا سکتے ہیں۔

یہ بات نیٹو کے عسکری منصوبہ ساز لیفٹیننٹ کرنل کولن رچرڈسن نے منگل ہالینڈ کے علاقے برُونسم میں صحافیوں کو ایک بریفنگ کے دوران بتائی، جہاں وہ نیٹو کی ایک کمانڈ پر تعینات ہیں، جو افغان آپریشن کے لیے معاونت فراہم کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے راستے سامان کی منتقلی ممکن نہ ہو تو اتحادی دیگر راستے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ برس کے آخر تک نیٹو کو افغانستان سے دو لاکھ شپنگ کنٹینر اور گاڑیاں نکالنی ہیں۔ اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کونسا سامان وہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔

افغانستان میں سکیورٹی ذمہ داریاں دھیرے دھیرے مقامی فورسز کو منتقل کی جا رہی ہے اور وہاں تعینات غیر ملکی فوجیوں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے رچرڈسن کا کہنا ہے کہ عسکری آلات اور سامان کی صفائی اور پیکنگ کے لیے بعض ملکوں کو عارضی طور پر اضافی فوجی افغانستان بھیجنے پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے بُرونسم میں ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا: ’’ہمیں تجربے سے پتہ چلا ہے کہ وہاں فورسز بھیجنے والے بہت سے ملکوں کے فوجیوں کی تعداد کسی حد تک زیادہ ہو جائے گی کیونکہ انہیں اپنے آلات کی منتقلی کے لیے مزید فورسز بھیجنی ہوں گی۔‘‘

Militärstützpunkt Garmsir

نیٹو فورسز سکیورٹی ذمہ داریاں مقامی فورسز کو منتقل کر رہی ہیں

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نیٹو فورسز اپنے سامان کی واپسی کے لیے فضائی، زمینی اور بحری تمام راستے استعمال کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فورسز اس کام کے لیے مکمل طور پر پاکستان کے ٹرانزٹ رُوٹ پر انحصار نہیں کر رہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغانستان سے 60 ارب ڈالر مالیت کے عسکری آلات کی واپسی حالیہ تاریخ کے مشکل ترین انتظامی کاموں میں سے ایک ہے، جو عراق کے انخلاء سے بھی کہیں زیادہ مشکل ہے۔

عراق سے انخلاء کے وقت برطانیہ اور امریکا کو فوجیوں اور سامان کو ہمسایہ ملک کویت منتقل کرنے کی سہولت حاصل تھی، جہاں آلات کو صاف کرنے کے بعد پیک کیا جا سکتا تھا۔ تاہم افغانستان میں نیٹو فورسز کو یہ کام مقامی اڈوں پر انجام دینے ہوں گے۔

فوجیوں کا کہنا ہے کہ ایک بکتر بند گاڑی کو منتقلی کے لیے تیار کرنے میں کئی دِن لگتے ہیں اور ایسی 60 ہزار گاڑیوں کو تیار کرنا ہے۔

نیٹو نے اتوار کو ایک بیان میں افغانستان میں فرنٹ لائن فوجیوں کے یہ الزامات مسترد کیے تھے کہ افغانستان میں مختلف فوجی اڈے سمیٹنے کا عمل جنگی کارروائیاں متاثر کر رہا ہے۔

ng / ab (Reuters)