1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سال 2017، حقوق خواتین کے لیے یادگار برس

گلابی ٹوپیاں پہنے لاکھوں مظاہرین کا مارچ ہو یا خواتین کا اپنے ’’گنہ گاروں‘‘ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا یا چلی سے لے کر بھارت تک خواتین کے حق میں قوانین سازی، 2017  کے کئی لمحات خواتین کے حوالے سے اہم اور یادگار رہے۔ 

حقوق خواتین کے علم برداروں کے مطابق اس برس کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر میں استقاط حمل کے سلسلے میں دی جانے والی امداد کو محدودکر دینے کا حکم یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین کو مکمل طور پر اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق جہاں ایک طرف امریکا اور چند دیگر ممالک میں قوت مزاحمت کے فروغ کی ہوائیں چل رہی ہیں تو وہیں مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکا اور افریقہ میں صنفی تفریق کے خاتمے کی جانب قدم بڑھانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 

خبر رساں ادارے  تھامس رائٹرز فاونڈیشن سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر  فومذیل ملامبو کہتی ہیں، ’’یہ سال صنفی تفریق کے قوانین سے نمٹنے کا سال تھا۔‘‘

اس سلسلے میں اس برس لبنان، تیونس اور اردن نے اپنے ملک میں رائج وہ قوانین ختم کر دیے ہیں جس کے تحت زیادتی کا  مرتکب  شخص زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون سے شادی کرکے سزا سے بچ سکتا تھا۔  

فومذیل ملامبو کے مطابق اس برس ملاوی، ہنڈورس، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹباگواور گوئٹے مالا میں بھی خواتین کے حقوق کے حوالے سے اس وقت بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب ان ممالک نے کم عمری کی شادیوں کے قومی قوانین کو خواتین کے حق میں تبدیل کر دیا۔ اس کے علاوہ بھارت جہاں کم عمری کی شادیاں غیر قانونی مگر عام ہیں، وہاں قانون کے مطابق 15 سے 18 سال عمر کی بیویوں سے سیکس کو قابل سزا جرم گردانا جائے گا۔

دوسری جانب یہ بات بھی خوش آئند قرار دی جا رہی ہے کہ اس برس جنسی تعصب کے خلاف مزاحمت بھی زیادہ دیکھی گئی۔ یعنی زیادتی کا شکار خواتین کو مورودالزام ٹہرانے، ان کی بات پر یقین نہ کرنے اور ان کو گناہ گار سجمھنے کے بجائے مجرم کو جرم کا ذمہ دار قرار دیئے جانے کا رجحان ہے۔

اس ہی تناظر # Metoo  کے عنوان سے ہونے والے احتجاج کی مقبولیت ملی جس میں دنیا بھر کی خواتین نے ان افراد کے نام لیے جنہوں نے ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ٹرمپ کے خواتین کے لیے نہایت نازیبا بیان پر ہونے والا احتجاج بھی دنیا کی توجہ کا مرکز بنا۔    

 

امریکی دارالحکومت میں خواتین کا مارچ رات بھر جاری رہا

  ہیش ٹیگ می ٹو، 2017ء میں سب سے زیادہ بااثر

DW.COM