1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سال 2015 افغان سکیورٹی دستوں کے لیے کڑا امتحان

افغانستان میں نیٹو و امریکا کے جنگی مشن کو ختم ہوئے ٹهیک ایک برس مکمل ہوگیا ہے۔ اس کے بعد سے اپنے ملک کی سلامتی خود سنبهالتے ہوئے ایک برس میں چار ہزار سے زائد افغان سکیورٹی اہلکاروں ہلاک ہوئے ہیں۔

28 دسمبر 2014 کی شام افغانستان متعین نیٹو افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان کیمپل نے ایک دہائی سے زیاده عرصے تک جاری جنگی مشن کے خاتمے کا اعلان کیا تها۔ جنرل کیمپل نے دسمبر 2001 تا دسمبر 2014 جاری رہنے والے اس مشن کو ایک اہم دور قرار دیتے ہوئے کہا تھا که افغانستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہورہا ہے۔

سال 2015 افغانستان میں نظام حکومت کے ساتھ ساتھ اس جنگ زده ملک کی مسلح افواج کے لیے بهی کسی کڑے امتحان سے کم نہیں رہا۔ سیاسی منظر نامے پر نمودار ہونے والی اونچ نیچ کا دباؤ براه راست برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ افغان سکیورٹی دستوں کو طالبان عسکریت پسندوں کے بهی ان تابڑ توڑ حملوں کا سامنا رہا، جس کی وه برسوں سے تياری کر رہے تھے۔ یه سال دونوں اطراف کے لیے اس لیے بهی زیاده خونریز رہا کیونکه غیر ملکی افواج کے برعکس مقامی دستوں کا عسکریت پسندوں سے زیادہ سامنا رہا چاہے وہ شہر ہوں یا دیہات یا پھر دور دراز پہاڑی مقامات۔

اس وقت بهی افغان وزارت دفاع و داخله کے ذرائع کے مطابق مقامی دستے ملک کے طول و عرض میں بیس سے زائد محاذوں پر عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ افغانستان اور عراق کی جنگوں میں ہوئی ہلاکتوں کا اعداد و شمار رکهنے والے معتبر و آزاد ادارے iCasualties کے مطابق سال 2015 میں دیگر برسوں کی نسبت افغان پولیس و فوج کو دوگنا نقصان ہوا۔ اس ادارے کے مطابق رواں سال 4300 افغان سکیورٹی اہلکار عسکریت پسندوں کے ہاتهوں ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی تھی جبکہ دوسرے نمبر پر فوج رہی۔

اسی دوران غیر ملکی افواج کے تقریباً 50 اہلکار ہلاک ہوئے جبکه محض ایک برس قبل 150 سے قریب غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے تهے۔

خود جنرل کیمپل سے جب افغان سکیورٹی دستوں کی ایک ساله کارکردگی اور استعداد کے بارے میں پوچها جاتا ہے تو وه خاصا مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ گزشته ماه کابل میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت اور معاونت کے حوالے سے خاصا کام ابھی باقی ہے مگر ان کی بہادری اور حب الوطنی میں کوئی شک نہیں۔

جب امریکی کمانڈر سے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد اور ’’گهوسٹ اہلکاروں‘‘ یعنی ایسے اہلکاروں کے بارے میں پوچها گیا، جن کے نام کاغذات پر تو درج ہیں اور وہ تنخواہیں بهی لیتے ہیں مگر عملی طور پر موجود نہیں، تو انہوں نے تسلیم کیا که افغان لوکل پولیس، جسے طالبان کے خلاف نہایت مؤثر فورس قرار دیا جاتا ہے میں’’ گهوسٹ اہلکار موجود ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیےکام ہو رہا ہے۔‘‘ جنرل کیمپل کے مطابق افغان سکیورٹی فورس قریب ساڑهے تین لاکھ اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اب بهی کم از کم مزید 25 ہزار مزید فوجیوں کو بهرتی کرنے کی گنجائش ہے۔

کابل میں ان دنوں جگه جگه فوج، بالخصوص فضائیه میں بهرتے کے اشتہار دکهائی دیتے ہیں۔ بهارت کی جانب سے چار Mi 25 جنگی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی اور دیگر نیٹو ممالک کی جانب سے بهی فضائیه کو مضبوط کرنے کے وعدوں کو اس ملک کی فوجی قوت کے حوالے سے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔

تجزیه نگار جاوید کوہستانی البته کہتے ہیں که مسلح افواج کی قیادت میں کمزوریاں اور ناقص پالیسیوں کی وجہ یہ ہے کہ افغان دستوں کو رواں برس بہت زیادہ جانی نقصان اٹهانا پڑا ہے۔ ان کے بقول شمالی شہر قندوز پر کچه روز تک طالبان کا قبضه اور پهر ہلمند کے ضلع سنگین پر قبضے جیسے واقعات سکیورٹی فورسز کے حوصلے کے لیے خاصے نقصان دہ ثابت ہوئے۔

تجزیہ کار ملکی فضائیه کے سابق سربراه جنرل عتیق الله امرخیل صدر اشرف غنی اور ان کے چیف ایگزیکیٹیو عبدالله عبدالله کے مابین سیاسی کهینچا تانی کو بهی ملکی دفاع کے حوالے سے ایک بڑی مشکل گردانتے ہیں۔ ان تجزیه کاروں کے بقول اگر ان مشکلات کو دور نه کیا گیا تو 2016 افغان سکیورٹی دستوں کے لیے رواں برس سے بهی زیاده جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔