1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سال 2010ء ، سزائے موت کی تعداد میں کمی

لندن میں قائم حقوق انسانی کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2010ء کے دوران سزائے موت دیے جانے کی شرح میں واضح کمی پیدا ہوئی ہے۔ ادارے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ کمی عالمی سطح پر نوٹ کی گئی ہے۔

default

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ کا اجراء پیر کو لندن میں کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال تئیس مختلف ممالک میں سزائے موت دیے جانے کے معلوم واقعات کی تعداد 527 بنتی ہے جبکہ 2009ء کے دوران یہ تعداد 714 ریکارڈ کی گئی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تاہم کہا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ چین میں سزائے موت دیے جانے کے واقعات ہزاروں میں ہوں لیکن بیجنگ حکومت نے درست اعدادوشمار پنہاں رکھے ہوں۔ گزشتہ دس دہائیوں کے دوران اکتیس ممالک میں سزائے موت ختم کی جا چکی ہے۔

Symbolbild Todesstrafe Todeszelle

2010ء کے دوران تئیس مختلف ممالک میں سزائے موت دیے جانے کے معلوم واقعات کی تعداد 527 بنتی ہے

انسانی حقوق کے عالمی ادارے کی نئی رپورٹ کے مطابق جن ممالک میں سب سے زیادہ سزائے موت سنائی جاتی ہے، ان میں چین، مصر، سعودی عرب اور یمن سر فہرست ہیں۔ ادارے کے بقول گزشتہ برس چین، مصر،انڈونیشیا، ایران، لاؤس، لیبیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور یمن میں سزائے موت دی جانے کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔

رپورٹ کے مطابق ایران میں 252، یمن میں 53 جبکہ امریکہ میں 46 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔ گزشتہ برس زیادہ تر منشیات کے جرم پر سب سے زیادہ سزائے موت دی گئیں۔ اس کے باوجود ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران مختلف ممالک میں سزائے موت کے حوالے سے بہتری دیکھی گئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل 1961ء میں قائم کیا گیا تھا، اس وقت صرف نو ممالک ایسے تھے، جہاں مکمل طور پر سزائے موت پر پابندی تھی۔ اس ادارے نے دیگر انسانی حقوق کے پرچار کے علاوہ بالخصوص موت کی سزا کے خلاف بھی مہم شروع کی۔ اسی وجہ سے اب دنیا کے اکتیس ممالک اس سزا کو ختم کر چکے ہیں۔ اس وقت امریکہ کی سولہ ریاستوں میں بھی سزائے موت دیے جانے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات