1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سال 2009ء: پاکستان میں کیا کچھ نہیں ہوا

پاکستان میں کئی مبصرین کا خیال ہے کہ سال 2009ء میں نہ ہو سکنے والے اقدامات کی فہرست ان اقدامات سے کہیں طویل ہے جن کے ہونے کا ڈھنڈورا سرکاری حلقوں کی طرف سے پیٹا جا رہا ہے۔

default

ایک ایسے وقت میں ،جب دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی طرح پاکستان میں بھی صحافتی ادارے اس بات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں کہ سال 2009ء میں کیا کچھ ہوا ہے۔ اس موقعے پر یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ پاکستان میں سال 2009ء میں کیا کچھ نہیں ہو سکا اور عوام سے کئے گئے کون کون سے وعدے پورے نہیں کئے گئے۔

اگرچہ حکومت کی طرف سے سال 2009ء میں کئے جانے والے بعض اقدامات کا تذکرہ کامیابی کے مبالغہ آمیز دعووں کے ساتھ کیا جا رہا ہے لیکن کئی سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سال 2009ء میں پاکستانی حکومت کے بہت سے وعدے اردو شاعری کے محبوب کے وعدوں کی طرح وفا نہیں ہو سکے۔

سال 2009ء میں میثاق جمہوریت پر عمل درآمد ہوسکا اور نہ ہی سترہویں ترمیم کا خاتمہ کیا گیا۔ تجزیہ نگار حسن عسکری کہتے ہیں کہ 2009ء میں پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر کرنے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ پاکستانی قوم کو اپنی تاریخ کے بد ترین دہشت گردانہ واقعات کا سامنا کرنا پڑا اور سال 2009ء میں اوسطاﹰ ایک دن میں تین افراد دہشت گردی کی نظر ہوئے۔ حسن عسکری کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کئے جانے والے اقدامات کے باوجود 2009ء میں دہشت گردی بدستور پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج بنی رہی اور اس کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ جو گڈ گورنینس یا اچھے طرز حکمرانی کے مسائل ہیں یعنی حکومت کا انتظام ایسے چلے کہ جس سے عوام کی بہتری ہو اور بد عنوانی کا خاتمہ کیا جاسکے، اس ضمن میں بھی 2009ء میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیر پانی و بجلی راجہ اشرف کی طرف سے پاکستانی عوام کے ساتھ بار بار یہ وعدہ کیا جاتا رہا کہ 31 دسمبر 2009ء تک ملک سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ مکمل طور پرختم کر دی جائے گی لیکن سال تو ختم ہو گیا لوڈشیڈنگ بدستور قائم ہے، اور یوں پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر کا یہ وعدہ بھی وفا نہ ہو سکا۔

Pakistan Raja Pervaiz Ashraf

وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی راجہ پرویز اشرف نے 31 دسمبر 2009 تک لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کیلئے جو محبت بھرے وعدے کئے تھے وہ بھی وفا نہیں ہو سکےاورملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے بڑھائی جانے والی پیار کی پینگیں بار بار دم توڑتی رہیں اور ان کے رہنمائوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف داغے جانے والے موافقت میں تو کبھی مخالفت میں دیے جانے والے متضاد بیانات عوام کی مایوسی میں اضافے کاباعث بنتے رہے۔

ڈاکٹر عسکری کے مطابق 2009ء میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان میں بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے اور مشرق وسطی کے مسئلے پر بھی کوئی بڑی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور تجزیہ نگار فاروق حمید کہتے ہیں کہ 2009ء میں پاک بھارت جامع مذاکرات بحال نہیں ہو سکے۔ اسی طرح فرینڈز آف پاکستان کی طرف سے پاکستان کی امداد کیلئے تقریباﹰ ساڑھے پانچ ارب ڈالر دینے کے جو وعدے کئے گئے تھے ان پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

اقتصادی امور کے ماہر انیس احمد کہتے ہیں کہ 2009ء میں ایک طرف غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی نہیں لا ئی جاسکی تو دوسری طرف ملکی برآمدات اور صنعتی پیدوار میں ہونے والی کمی کو بھی نہیں روکا جا سکا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں آنے والی کمی کو بھی نہیں روکا جا سکا۔ حکومت کی طرف سے مقرر کئے جانے والے کئی پیداواری اہداف پورے نہیں ہو سکے۔ سیاستدانوں کی طرف سے کشکول توڑ دینے کےروایتی دعووں کے برعکس پاکستانی حکومت مزید قرضے لینے پر مجبور ہوئی اور عام آدمی کی اقتصادی مشکلات میں نمایاں کمی نہیں لائی جاسکی۔

Anschlag in Karachi in Pakistan

دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ بھی سال بھر جاری رہا اور اس پر قابو نہ پایا جاسکا۔

ثقافتی میدان میں بھی کوئی غیر معمولی کامیابی بھی 2009ء میں میسر نہیں آ سکی ۔ پاکستان کی سینما انڈسٹری میں بھی کوئی بہتری کی کوئی صورت سامنے نہیں آئی۔ جبکہ 2009ء میں ہی امن و امان کی خراب صورت حال کے پیش نظر ورلڈ پرفامنگ آرٹس فیسٹیول سمیت کئی اہم پروگرام منقعد نہیں کئے جا سکے۔

ممتاز دانشور اور پاکستان کالج آف لاء کے پرنسپل ہمایوں احسان کہتے ہیں کہ لوگوں کو توقع تھی کہ آمریت کی وجہ سے جلا وطنی کا عذاب بھگتنے والے سیاستدانوں نے کچھ اچھے سبق سیکھے ہونگے اور وہ ان تجربات کے بعد عوامی بھلائی کیلئے کام کریں گے۔ مگر 2009ء میں یہی نظر آیا کہ اکثر بڑی جماعتوں کے سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے ایک نظر نہ آنے والا اتحاد قائم کر لیا اور وہ 2009ء میں مصلحتوں کا شکار نظر آئے ۔

سابق سفارت کار اقبال احمد خان کہتے ہیں کہ 2009ء کے دوران آمرانہ دور میں کی جانے والی آئینی ترامیم کو ختم کر کے 1973ء کے آئین کے مطابق پارلیمانی طرز حکومت بحال کرنے کے جو حکومتی وعدے کئے گئے تھے وہ بھی پورے نہیں ہو سکے ۔

پاکستان کے ایک بڑے اردو اخبار سے وابستہ خاتون صحافی سعدیہ قریشی کا کہنا تھا کہ 2009ء میں حکومت عوام کومقررہ نرخوں پر گیس چینی اور آٹے کی فراہمی یقینی بنانے میں بھی ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق ملک کو سی این جی گیس کے جس بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے سد باب کیلئے بھی حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر اقدامات دیکھنے میں نہیں آ سکے ہیں۔ سعدیہ قریشی کے مطابق تمام تر ناکامیوں اور وعدہ خلافیوں کے باوجود اقتدار کے ایوانوں سے کامیابیوں کے بلند بانگ دعوے سنائی دے رہے ہیں اور غریب عوام اس شاعر کے جذبات لئےحکومتی ایوانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جس نے کہا تھا کہ،

ہماری یادوں کے افق پر ، تمہارے وعدوں کے چاند

اس قدر چمکے نہیں ہیں جس قدر گہنائے ہیں

رپورٹ : تنویر شہزاد،لاہور

ادارت : افسر اعوان