1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سال رواں کی دوسری سہ ماہی میں جرمن معیشت کی کارکردگی میں کمی

ویز باڈن میں وفاقی دفتر شماریات کے مطابق سال رواں کی دوسری سہ ماہی میں گذشتہ چار برسوں کے دوران کسی بھی سہ ماہی میں پہلی مرتبہ جرمن معیشت کی کارکردگی میں کمی دیکھنے میں آئی۔

default

دوہزار تین کے بعد سےپچھلی سہ ماہی میں جرمن معیشت کی کارکردگی میں پہلی بار یہ کمی اس حد تک دیکھنے میں آئی کہ اس کمی کی شرح ایک سال پہلے کے مقابلے میں 0.5 فیصدبنتی تھی۔ اس سے قبل سہ ماہی بنیادوں پر جرمن معیشت کے سکڑنے کا عمل 2003 کے اوائل میں دیکھنے میں آیا تھا۔

جرمن مالیاتی ادارے Dresdner بینک کے صنعتی ملکوں کی اقتصادی کارکردگی سے متعلق تحقیقی شعبے کے سربراہ Gregor Eder کہتے ہیں کہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کے طور پر جرمنی کی کارکردگی میں کمی کا یہ رحجان کسی بڑی تنزلی کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ معیشی ترقی کا عمل عارضی طور پر رک گیا ہے۔

اس کا ایک ثبوت یہ کہ سال رواں کی پہلی سہ ماہی کے دوران جرمن معیشت کی کارکردگی میں 1.3 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جس کی اتنی اونچی شرح کی گذشتہ بارہ برسوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ Gregor Eder کہتے ہیں:

" اگر دوسری سہ ماہی سے متعلق معیشی اعدادوشمار کو دیکھاجائے اور پھر یہ بھی نظر انداز نہ کیا جائے کہ تیسری سہ ماہی کے دوران اقتصادی کارکردگی سے متعلق حقیقی امکانات کیا ہیں تو پھر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس سال اپریل سے جون تک جرمن معیشت زیادہ تر جمود کا شکار رہی، یعنی ترقی کی شرح صفر رہی، اور اس میں بہتری کے امکانات کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ آئندہ مہینوں میں عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتیں کس رفتار سے کتنی تبدیل ہوتی ہیں۔ لہٰذا یہ امکان بھی موجود ہے کہ 2008 کی آخری سہ ماہی میں معیشی ترقی کی شرح میں دوبارہ معمولی سا اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔"

اس کے برعکس جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ کے ایک اور ماہر اقتصادیات ایڈگر واک کہتے ہیں کہ جرمن معیشت اس لئے مسائل کا شکار ہے کہ اس میں ترقی کا عمل بظاہر رک گیا ہے۔ لیکن ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ جیسے جرمنی معیشی انحطاط کے دہانے پر پہنچ گیا ہو۔ Edgar Walk کہتے ہیں کہ یورپی یونین کے یورو زون کی ریاستوں کی معیشی کارکردگی میں باہمی طور پر کافی فرق پایا جاتا ہے اور ان میں سے جرمنی کی حالت زیادہ ترسب سے اچھی ہوتی ہے۔

جہاں تک سال رواں کے دوران جرمن معیشت کی مجموعی کاکردگی کا سوال ہے تواکثر ماہرین کی رائے میں ترقی کی یہ شرح دو فیصد تک ہوسکتی ہے جبکہ خود وفاقی حکومت کی رائے میں ترقی کی یہ شرح 1.7 فیصد کے قریب رہے گی جو گذشتہ برس 2.5 فیصد کی شرح سے سالانہ ترقی کے مقابلے میں بہرحال قدرے کم ہوگی۔