1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سال رواں جرمنی کی سياسی جماعتوں کے لئے فيصلہ کن ہے

سن 2011 جرمنی ميں برسراقتدار مخلوط حکومت کے لیے فيصلے کا سال ہے۔ يہ اپوزيشن کی ابھرتی ہوئی جماعت گرين پارٹی کے علاوہ ملک کی قديم پارٹی ايس پی ڈی اور بائيں بازو کی جماعت دی لِنکے کے لیے بھی ايک فيصلہ کن سال ہوگا۔

default

چانسلر ميرکل

اس وقت جرمنی کا سياسی منظر کچھ يوں ہے کہ تحفظ ماحول پر خاص زور دينے والی گرين پارٹی کی کاميابی کا گراف اوپر جا رہا ہے اور وہ ملک کی دوسری بڑی پارٹی، اپوزيشن کی ايس پی ڈی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

چانسلر ميرکل کو اپنی مخلوط حکومت کے لڑکھڑاتے آغاز کے بعد قدم جمانے ميں کوئی ايک سال کا عرصہ لگا ہے۔ مخلوط حکومت ميں شامل چھوٹی جماعت ايف ڈی پی کے سيکريٹری جنرل کرسٹيان لِنڈنر کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت کی پاليسياں عوام ميں پسند نہيں کی جا رہی ہيں اور خاص طور پر ايف ڈی پی کے ووٹر ان سے مطمئن نہيں ہيں۔

انہوں نے کہا: ’’رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ہماری پوزيشن بہت اچھی نہيں ہے اور ايف ڈی پی نے اُن ووٹروں کو مايوس کيا ہے جنہوں نے ہم سے بہت اونچی توقعات وابستہ کر رکھی تھيں۔‘‘

Christian Lindner Generalsekretär FDP

کرسٹيان لنڈنر

مخلوط حکومت میں شامل بڑی جماعت سی ڈی يو کی چيئر پرسن اور وفاقی چانسلر انگیلا ميرکل نے کہا: ’’صوبے باڈن وُرٹیمبرگ کے شہر اشٹٹ گارٹ ميں بہت مہنگے زير زمين مرکزی ريلوے اسٹيشن کی تعمير کا مسئلہ مخلوط حکومت کے طرز عمل کی ايک علامت بن گيا ہے۔ قدامت پسند ووٹر تک بھی يہ محسوس کر رہے ہيں کہ ان کی رائے کو کوئی اہميت نہيں دی گئی ہے۔ يہ مسئلہ صوبے ميں سی ڈی يو کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنے گا اور وفاق ميں بھی پارٹی کمزور ہو جائے گی۔ اس کا فائدہ گرين پارٹی کو ہوگا۔‘‘

گرين پارٹی کے لیے بھی يہ سال فيصلے کا سال ہے۔ اُس کی چيئر پرسن کلاؤڈيا رَوتھ نے کہا: ’’گرين پارٹی حکومت کرنا چاہتی ہے۔ اُس کی کاميابی کے لیے موضوعات چانسلر ميرکل نے سن 2010 ميں فراہم کیے، توانائی کی متنازعہ سياست اور معاشرتی انصاف کی صورت حال۔‘‘

Die Grünen Parteitag

کلاؤڈيا روتہ

گرين پارٹی کو پہلی بار ايک ايسی مخلوط حکومت ميں بڑی جماعت کی حيثيت سے شامل ہونے کا موقع مل سکتا ہے جس ميں ايس پی ڈی چھوٹی پارٹی ہو۔

سوشل ڈيمو کريٹک پارٹی ايس پی ڈی کے لئے بھی سال رواں ايک فيصلےکا سال ہے۔ ليکن اس پارٹی کی طرف سے گرين پارٹی اور دوسروں پر حملوں کے سوا کچھ اور سننے کو نہيں ملتا۔

اس سال جرمنی کے سات صوبوں ميں پارليمانی انتخابات ہو رہے ہيں۔ اس کے نتيجے ميں سياسی پارٹيوں کے تانے بانے ميں بنيادی نوعیت کی تبديلياں آئيں گی۔ سن 2011 فيصلے کا سال ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس