1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سال دو ہزار آٹھ اور پاکستان

سال رواں میں پاکستان میں 61 خودکش بم حملے ہوئے، جن میں 890 افراد جاں بحق ہوئےجبکہ دو ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ سال 2008 ہم سے رخصت ہورہا ہے، گُزرنے والے اس سال میں پاکستان میں کیا کیا ہوا؟

default

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر ملک کے نئے صدر آصف علی زرداری سے حلف لیتے ہوئے

خودکش بم حملوں اور ناگہانی آفات کے حوالے سے ماضی میں عراق اور فلسطین خبروں کا مرکز ہواکرتے تھے لیکن اب دنیا بھر میں پاکستان کا نام سرفہرست ہے۔

Pakistan Anschlag in Buner an der afghanischen Grenze

پاکستان کی وادیء سوات میں بھی اس سال کئی خودکش بم حملے ہوئے

سب سے زیادہ خودکش حملے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ پنجاب شدت پسندوں کا ہدف رہا جبکہ شورش ذدہ صوبہ بلوچستان میں پُرتشّدد واقعات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں کمی دیکھنے میں آئی۔

خیال تھاکہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے نو سالہ اقتدار کے خاتمے اور نئی جمہوری حکومت کے قیام کے بعد خودکش بم حملوں می‍ں کمی واقع ہوگی تاہم مشرف کی بعض پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے حملوں کا سلسلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی رہا۔

سال 2007 کے آخر ی دنوں میں ملک کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد دو ہزار آٹھ میں بننے والی حکومت کے صدر، وزیراعظم اور وزراء نے دہشت گردی کے خوف سے عوامی رابطوں سے گریز کرنا شروع کردیا۔

خودکش حملوں کا سال:

عوامی جماعت کہلانی والی پاکستان پیپلز پارٹی آہستہ آہستہ غیر مقبول ہوتی جارہی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 2008 کا سال پُرتشّدد واقعات اورخودکش حملوں سے بھرپور تھا۔

Anschlag Explosion Lahore Pakistan tote Frau

پاکستانی طبی عملہ لاہور بم دھماکے میں ہلاک ہونے والی ایک خاتون کی لاش اُٹھاتے ہوئے، یہ دھماکہ چوبیس دسمبر کو ہوا

صوبہ سرحد، وفاقی دارلحکومت اسلام آباد، راولپنڈی اورلاہور میں دھشت گردی کے بدترین واقعات رونما ہوئے۔ اسلام آباد میں انٹر سروسز انٹیلی جینس ISI کی دو گاڑیوں پر خودکش حملے، راولپنڈی میں اعلیٰ سطح کے فوجی جنرل اوراہلکاروں پر حملے، وفاقی تحقیقاتی ادارے FIA کے دفتر پر حملہ اور اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل پر خودکش حملے، یہ سب کچھ سال دو ہزار آٹھ کے دوران ہی ہوا۔

رواں سال میں مہنگائی ،آٹے ،بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے آثار اب بھی نظر نہیں آتے ہیں اور حکومت معاشی بحران پر قابو پانے میں بھی بظاہر بے بس نظر آرہی ہے۔

صحافیوں کے لئے بھی یہ سال اچھا نہیں رہا:

ایک غیر سرکاری تنظیم انٹرمیڈیا کے مطابق 2008 میں پرتشدد واقعات میں 12صحافی بھی ہلاک ہوئے جبکہ گرفتار یا اغوا ہونے والے صحافیوں کی تعداد 34 ہے۔ ان واقعات کے حوالے سے صوبہ سرحد، صوبہ پنجاب اورقبائلی علاقوں کو سفر کے لئے خطرناک قرار دیا گیا۔ مزکورہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے 12صحافیوں میں صوبہ سرحد میں تین، صوبہ پنجاب میں تین، بلوچستان اور سندھ میں دو دو جبکہ فاٹا اور وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ایک ایک صحافی ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر صحافیوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں74 اخبار نویس زخمی ہوئے جبکہ دھمکیوں کے 118واقعات بھی سامنے آئے۔

Pakistanische Journalisten protestieren gegen Behinderung der Arbeit

میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف پاکستان کے صحافی احتجاج کرتے ہوئے

سال 2008 میں سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت نے20 مختلف اداروں کی اشاعت اورTV چینلوں پر پابندی عائد کی اور ایک بڑے اخباری گروپ کا TVچینل دوہفتے سے زائد عرصے تک بند رہا۔

2008کے خاتمے میں صرف چند روز باقی ہیں مگر پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتیں، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سال کے آغاز پر ایک دوسرے کی اتحادی تھیں مگر اب ایک دوسرے کی حریف نظرآتی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔

Gedenkveranstaltungen für Benazir Bhutto

مقتول وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں اُن کے ہزاروں حامی انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نواز لیگ کی حکومت ختم کرنے کے درپے ہیں۔ ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب سیاسی محاذ آرائی کا شکار ہوتا ہوا نظرآتاہے۔

ملک میں ججوں کی دوبارہ تقرری، بے نظیر بھٹوکے قاتلوں کی گرفتاری، ممبئی حملوں کے بعد پاک۔بھارت کشیدگی میں کمی، نواز لیگ سے محاذ آرائی اور سینیٹ کے انتخابات جیسے مسائل آنے والے سال میں پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت کے لئے امتحان ہوں گے۔

سال 2008 یوں تو کئی عالمی واقعات کے حوالے سے بھی اہم ہے مگر دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ میں حکومت کی تبدیلی، صدر بش کی رخصتی اور سیاہ فام باراک اوباما کی امریکہ کی بھاگ ڈور سنبھالنے کوبھی ایک اہم ترین واقعہ تصورکیا جارہا ہے۔

جنوری 2009 میں حکومت سنبھالنے والے باراک اوباما عالمی سیاست میں کیا تبدیلی لاتے ہیں اس کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ عراق، افغانستان، کشمیر اور اسرائیل۔فلسطین جیسے تنازعات عالمی سیاست کا محور ہوں گے۔