1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

سالانہ چھ لاکھ ہلاکتوں کا سبب غیر فعال تمباکو نوشی

ہر 100 اموات میں سے ایک کی وجہ ’پیسیو اسموکنگ‘ بنتی ہے۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والے ایسے افراد تک بھی تمباکو کا دھواں موت کا سبب بن کر پہنچتا ہے، جو سگریٹ پینے والوں کے نزدیک رہتے ہیں۔

default

انہیں غیر فعال تمباکو نوش بھی کہا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پیش کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال چھ لاکھ غیر فعال تمباکو نوشوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تمباکو نوشی کے عالمی اثرات پر کروائی جانے والی پہلی تحقیق کے نتائج سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ تمباکو کے دھوئیں سے سب سے زیادہ متاثر بچے ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہر سال دینا بھر میں غیر فعال تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے سبب ایک لاکھ پینسٹھ ہزار بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کے صدر دفتر میں غیر فعال تمباکو نوشی کے بارے میں تازہ ترین تحقیق کرنے والے ریسرچرز کی ٹیم کی سربراہ آنیٹے پروس استون نے اپنی اس رپورٹ میں کہا کہ ’غیر فعال تمباکو نوشی کے سبب دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے بچوں کی کُل تعداد کے دو تہائی حصے کا تعلق افریقہ اور ایشیا سے ہے‘۔

بچوں کیلئے ’پیسیو اسموکنگ‘ کے مُضر اثرات کے خطرات سب سے زیادہ اُن کے گھروں میں پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں بچوں کو پہلے ہی انفیکشنز کی گوناگوں بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اُس پر اُن کے ارد گرد تمباکو نوشی کرنے والے بھی موجود ہوتے ہیں، جن کے سگریٹ کے دھوئیں بچوں کی صحت کو مزید نقصانات پہنچاتے ہیں۔

Rauchverbot in Spaniens U-Bahn

سپین: زیر زمین ریلوے سٹیشن میں انسداد تمباکو نوشی کا نشان

ورلڈ ہیلتھ اور گنائزیشن کی یہ رپورٹ معروف طبی جریدے Lancet Journal میں شائع ہوئی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ساؤدرن کیلیفورنیا کے محققین نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پالیسی ساز عوام میں یہ شعور بیدار کرنے کی کوششیں کریں گے کہ گھروں میں تمباکو نوشی کا عمل بچوں اور بڑوں ہر عمر کے افراد کے لئے نہایت نقصان دہ ہے اور اس سے پرہیز کیا جانا چاہئے۔ محققین نے کہا ہے کہ کئی مغربی ممالک میں عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی عائد کی گئی ہے تاہم عالمی سطح پر اس موذی شے کے خلاف اقدامات اب بھی بہت ناکافی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے 2004 ء کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں غیر فعال تمباکو نوشی کے مُضر اثرات سے 40 فیصد بچوں، 33 فیصد مردوں اور 35 فیصد خواتین کو صحت کے گوناگوں خطرات لاحق ہیں۔ یہ تمام افراد گرچہ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے تاہم ان کے اردگرد گھروں میں کی جانے والی تمباکو نوشی ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ تمباکو کے دھوئیں کی زد میں آ کر امراض قلب میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ اُناسی ہزار بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ پینسٹھ ہزار افراد سانس کی نالی کی انفیکشن، چھتیس ہزار دمے کے مرض اور اکیس ہزار چار سو پھیپھڑوں کے عارضوں میں مبتلا ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے 5.1 ملین افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس