1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سازشی پوسٹس کے حوالے سے جانی جانے والی خاتون ہار گئیں

ٹیکساس کے ایجوکیشن بورڈ کی سربراہی کی خواہشمند خاتون ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں شکست کھا گئی ہیں۔ ان خاتون کے خیالات رہے ہیں کہ باراک اوباما ہم جنس پرست طوائف تھے یا ڈائناسارس انسانوں کے ساتھ زمین پر موجود رہے تھے۔

69 سالہ میری لُو برونر سابق اسکول ٹیچر ہیں اور وہ ریاست ٹیکساس کے طاقتور تعلیمی بورڈ کے لیے سرفہرست امیدوار رہی ہیں۔ ٹیکساس کا تعلیمی بورڈ پانچ ملین سے زائد بچوں کے لیے نصاب اور ٹیکسٹ بُکس کے لیے معیارات مقرر کرتا ہے۔ میری لُو برونر کی شہرت تاہم ان کی کچھ پُرانی فیس بُک پوسٹس کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی جن میں نہ صرف سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ مختلف سازشی نظریات بھی پیش کیے گئے۔ ان پوسٹس نے نہ صرف لوگوں کی بڑی توجہ حاصل کی بلکہ ان کو مذاق کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

ری پبلکن پارٹی کے داخلی انتخابات میں ووٹرز نے کیون ایلِس کو چُنا جو ایک مقامی اسکول بورڈ کے صدر رہے ہیں اور جنہوں نے ری پبلکن جماعت کی طرف سے نامزدگی حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی مہم چلائی تھی۔ خبر رساں ادارے ایسوسی پریس کے مطابق یہ ری پبلکن پارٹی کی طرف سے نامزدگی حاصل کرنے کے بعد وہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں کنزرویٹیو پارٹی کے امیدوار کے خلاف مقبولیت میں سبقت حاصل کر گئے ہیں۔ کنزرویٹیو پارٹی کی طرف سے اس عہدے کے لیے اسٹیفن ایف آسٹن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو نامزد کیا گیا ہے۔

میری لُو برونر کی طرف سے فیس بُک پوسٹس میں یہ بھی شامل تھا کہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو ڈیموکریٹس نے قتل کیا، یا یہ کہ موسمیاتی تبدیلی دراصل ایک فریب ہے جو کارل مارکس کی طرف سے گھڑا گیا اور اوباما کا ہیلتھ کیئر کا منصوبہ دراصل امریکی آبادی میں سے دو سو لوگوں کو کم کرنے کے لیے تھا۔ فیس بُک سے اب ہٹا دی گئی برونر کی پوسٹس میں یہ بھی شامل تھیں کہ دنیا سے ڈائنوسارس کے مٹنے کی وجہ دراصل طوفان نوح تھا اور یہ کہ ایک شہاب ثاقب ٹکرانے کے نتیجے میں ان کے مٹنے کا افسانہ لادین لوگوں کی طرف سے گھڑا گیا ہے۔ یہ فیس بُک پوسٹس تھیں تو کئی برس پرانی مگر ٹیکساس کے فریڈم نیٹ ورک نے ان کی تصاویر رکھی ہوئی تھیں۔ بائیں طرف جھکاؤ رکھنے والا یہ واچ ڈاگ دراصل ریاست کے تعلیمی بورڈ کے معاملات پر نظر رکھتا ہے۔

مارچ میں نامزدگی کے لیے ہونے والے ری پبلکن پارٹی کے انتخابات میں برونر محض دو فیصد کے فرق سے کامیابی سے رہ گئی تھیں جس کی وجہ سے دوسری بار اس مقصد کے لیے ووٹنگ کرائی گئی۔