1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سارک وزرائے داخلہ کے اجلاس کا آغاز

سارک کے وزرائے داخلہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہو رہا ہے، جس میں شرکت کے لئے بھارتی وزیر داخلہ جمعہ کو پاکستان پہنچے۔ انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات میں جماعت الدعوة کی سرگرمیوں پر بھی تحفظات ظاہر کئے۔

default

Der indische Innenminister P Chidamabaram in Neu Delhi

بھارت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم

خبررساں ادارے AFP کے مطابق اپنے بھارتی ہم منصب پی چدمبرم سے ملاقات کے بعد پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے گفتگو کی تفصیلات نہیں بتائیں بلکہ صرف اتنا کہا کہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے وزراء نے سلامتی کے امور پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اسے ایک اچھا آغاز قرار دیا اور کہا کہ یہ دونوں ملکوں کے عوام کے لئے ایک اچھا پیغام ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق رحمان ملک کے ساتھ ملاقات کے موقع پر بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید احمد کی سرگرمیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسلام آباد حکام کو بتایا کہ بھارت کے پاس پاکستانی پنجاب میں حافظ سعید کی منفی سرگرمیوں کے حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ بھارت کی جانب سے اس ملاقات پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بھارتی وزیر سے ملاقات سے قبل رحمان ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ اُن ٹھوس شواہد پر بات کریں گے، جو پاکستان نے ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان میں گرفتار مشتبہ افراد کے حوالے سے اکٹھے کئے ہیں۔

واضح رہے کہ رحمان ملک اور پی چدمبرم کے درمیان ملاقات سے محض ایک روز قبل دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان بھی ملاقات ہوئی، جنہوں نے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات میں بہتری کی اُمید ظاہر کی۔

جمعہ کو ہی سارک کے دیگر رکن ممالک کے ‌خارجہ سیکریٹریوں کی بھی ملاقات ہوئی، جس کے بعد پاکستانی حکام نے کہا کہ ہفتے سے شروع ہونے والے اجلاس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تعاون کا فروغ ہے۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

پاکستانی سیکریٹری داخلہ قمر زمان چوہدری نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ رکن ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر اتفاق رائے سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ جنوب ایشیائی ممالک کے درمیان علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کی بنیاد 1985ء میں رکھی گئی۔ اس کے رکن ممالک میں افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM