1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سارک اجلاس کے سلسلے میں بھارتی وزیر داخلہ کی اسلام آباد آمد

جنوب ایشیائی ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم یعنی سارک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس کے موقع پر آج داخلہ سیکرٹریوں کی سطح پر بات چیت کی گئی۔

default

اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں رکن ممالک کے حکام نے جرائم کی روک تھام اور تحقیق کےلئے سارک انسٹی ٹیوٹ آف کریمنالوجی کے قیام کے علاوہ امیگریشن قوانین اور رکن ممالک کی پولیس کے باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کے سیکرٹری داخلہ قمر زمان چوہدری نے اجلاس میں شرکت کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:” آج ہر رکن ملک نے دہشتگردی سے متعلق اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشتگردی پورے خطے کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور اسکے خاتمے کےلئے سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔"

انہوں نے کہا، ”پاکستان نے کریمنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی پیشکش کر رکھی ہے اور اس کے لئے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں سینٹر فار ایکسلینس قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

Palaniappan Chidambaram Innenminister Indien

نومبر2008ء میں ممبئی دہشتگردانہ حملوں کے بعد پی چدم برم وہ پہلے بھارتی وزیر ہیں جو پاکستان پہنچے ہیں۔

اس کے لئے آج گزشتہ اجلاسوں میں کی جانیوالی بات چیت کی پیش رفت پر غور کیا گیا ہے۔“ البتہ وزرات داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کریمنالوجی انسٹیٹیوٹ کے قیام کے علاوہ انٹرپول کی طرز پر سارک پول کے قیام کی تجویز پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا ہے جبکہ رکن ممالک کی پولیس کے درمیان تعاون کے معاملے پر بھی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہو سکی۔ تاہم اجلاس میں شریک بعض ممالک نے ای میل کے ذریعے آپس میں رابطوں کو بہتر بنانے کی تجویز پیش کی۔

ادھر بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم بھی سارک وزرائے داخلہ کے اجلاس میں شرکت کےلئے اسلام آباد پہنچ چکےہیں۔ وہ اجلاس میں شرکت کے علاوہ پاکستانی حکام کے ساتھ الگ سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ خیال رہے کہ نومبر2008ءکو ممبئی پر ہوئے دہشتگردانہ حملوں کے بعد کسی بھی بھارتی وزیر کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

مالدیپ اور سری لنکا کے وزرائے داخلہ بھی اس اجلاس میں شرکت کےلئے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ ایئرپورٹ پر دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کا استقبال کرنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس سے خطے کے ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے دوران دہشتگردی سمیت دیگر اہم معاملات پر غور کیا جائے گا، سارک وزرائے داخلہ کے اجلاس کے اختتام پر ہفتے کے روز مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

رپورٹ : شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت : افسراعوان