1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سارک اجلاس ، متعدد قراردادیں منظور

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں دہشت گردی، منی لانڈرنگ اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔

default

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نےکانفرنس میں ان تجاویز کی متفقہ منظوری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کانفرنس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ روکنے اور رکن ممالک کے درمیان انٹلیجنس معلومات کا تبادلہ بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کانفرنس میں اس حوالے سے قراردیں پیش کی گئیں، جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ پاکستانی وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا کہ کانفرنس میں مثبت بات چیت ہوئی ہے۔

Pakistan SAARC Gipfel

سارک وزارتی اجلاس میں شریک رہنما

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، امن اور معاشی استحکام کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سارک کی پچیس سالہ رکنیت پر بھارت کو فخر ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورت حال کی ابتری یہاں معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں کے لئے شدید خطرہ ہے۔

چدمبرم نے اس حوالے سے ہر مثبت اقدام کے لئے بھارت کی طرف سے تمام ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ سارک کے رکن ممالک کے خفیہ اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے،’’ہم بنا کسی شک و شبے کے اس بات پر متفق ہیں کہ جنوب ایشیائی خطے کو اس وقت سلامتی کے سخت مسائل کا سامنا ہے۔ مکمل تعاون سے ہی ہم مل کر دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘پی چِدمبرم نے رکن ممالک کے درمیان پہلے سے موجود معاہدوں پر بھی پوری طرح عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔

اس اجلاس میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے داخلہ کے علاوہ سارک میں شامل سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان کے وزرائے داخلہ بھی موجود ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے وزرائے داخلہ کے درمیان دو بدوملاقات گزشتہ روز ہوئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں بھی ممبئی حملے اور سلامتی سے متعلق دیگر موضوعات زیربحث رہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM