1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سارکوزی کا دورہ بھارت، جوہری معاہدے پر ممکنہ پیش رفت

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اپنے دورہ بھارت کے دوران جوہری ری ایکٹر اور لڑاکا طیاروں سمیت کئی بلین یورو کے متعدد معاہدوں کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔

default

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی آج ہفتے کے روز اپنے چار روزہ دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں۔ ان کے دورے کی پہلی منزل انفارمیشن ٹیکنولوجی کے مرکز سمجھے جانے والے بھارت کے جنوبی شہر بنگلور ہوگی ۔ سارکوزی اپنے اس دورے میں جی 20 اجلاس میں فرانس کے طرف سے پیش کردہ مالیاتی اصلاحات کے لئے بھارتی حمایت کی کوشش بھی کریں گے۔

Indien Frankreich Präsident Nicolas Sarkozy in Neu Delhi

سارکوزی پیر کے روز نئی دہلی پہنچیں گے

ان کے اس دورے میں فرانسیسی وزیر معیشت Christine Lagarde کے علاوہ 50 اہم کاروباری شخصیات اور ان کی کابینہ کے اہم عہدیدار بھی شامل ہہں گے۔ سارکوزی پیر کے روز بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے نئی دہلی میں ملاقات کریں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات میں وہ بھارت کے لئے دو فرانسیسی جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر و تنصیب اور 126 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سارکوزی اپنے اس دورے میں ایک اعشاریہ پانچ بلین یورو کی ایک اور ڈیل کو بھی حتمی شکل دے دیں گے، جس کے تحت بھارت کے 51 میراج طیاروں کو بھی نئے خطوط پر جدید بنایا جائے گا۔

Indien Ministerpräsident Manmohan Singh

اس دورے میں سارکوزی من موہن سنگھ سے بھی ملاقات کریں گے

فرانسیسی صدراتی ذرائع کے مطابق ان تمام معاملات پر بات چیت تو جاری ہے، تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا ان تمام معاملات پر کوئی واضح پیش رفت یا معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ فرانسیسی جوہری گروپ آویرا نے بھارت کے جوہری توانائی گروپ کے ساتھ گزشتہ برس ایک یاداشت پر دستخط کئے تھے، جس کے تحت بھارت میں قائم جوہری ری ایکٹروں کو سات بلین یورو کی لاگت سے جدید بنایا جا نا ہے۔

بعد ازاں اس معاہدے کو بھارتی حکومت کی طرف سے بھی گرین سنگل دے دیا گیا تھا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس سلسلے میں بھی فرانسیسی صدر کا یہ دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہو گا۔ فرانسیسی صدراتی دفتر کے مطابق ’’بھارت کے ساتھ معاملات انتہائی آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم یہ بھی عین ممکن ہے کہ فرانسیسی صدر کے اس دورے میں ان تمام معاملات پر ٹھوس پیش رفت سامنے آ جائے۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس