1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سارکوزی شام میں

سن دو ہزار پانچ کے بعدکسی بھی مغربی یورپی ملک کے کسی سربراہ کا شام کا یہ پہلا دورہ ہے۔ ان کی شام کے صدر بشار الاسد سے رات کے کھانے پر ملاقات ہوئی ۔

default

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی شام کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر دمشق پہنچ گئے ہیں۔جہاں شام کے وزیر خارجہ ولید معلم نے کئی دوسرے شامی حکام کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ائر پورٹ سے سارکوزی سیدھے صدارتی محل روانہ ہوئے کہ جہاں سرکاری طور پر استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ جس کے بعد انہوں نے اپنی شامی ہم منصب بشارلاسد سے ملاقات کی ۔ شامی صدر نے فرانس کی بطور یورپی یونین کے صدر ملک عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔


اس سے قبل بشارلاسد اپنی عوام سے شام کے تشخص کو ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ شام پر سابق لبنانی صدر رفیق ہریری کے قتل میں ملوث ہونے اور لبنان جنگ کے دوران حزب اللہ کی پشت پناہی کے الزام کے باعث عالمی سطح دکھائی دے رہا تھا۔ مبصریں کا خیال ہے کہ فرانسیسی صدر کا یہ دورہ اس تنہائی کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

چھ ہفتوں قبل شام کے صدر نے فرانس کا دورہ کیا تھا۔ ان کے اس دورے کہ دوران صدر سارکوزی نے دمشق حکومت سے ملک میں جمہری روایات کو فروغ دینے اور حکومت مخالفین کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


اِس دورے کے دوران کل فرانسیسی صدر ترکی اور قطر کے ساتھ مشرق وسطیٰ امن مذاکرات میں شریک ہو رہے ہیں ۔ شام کے دورے میں فرانس کے وزیر خارجہ برنارڈ کوشنیر اور اقتصادی مماہرین کا ایک گروپ بھی سارکوزی کے ہمراہ ہے۔ کل جمعرات کے روز ساکوزی ایک سربراہی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے کہ جس میں شام سمیت ، ترکی اور قطر کے سربراہاں شرکت کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں شام اور اسرائیل کے مابین امن مذاکرات کو فروغ دینے کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔

تجزیہ نگاروں کے خیال میں سارکوزی اس دورے کے دوران بشارلاسد پر لبنان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر زور دیں گے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق سارکوزی کو شام کے بارے میں متجسس یورپی ممالک کو مطمئن کرنا انتہائی ضروری ہے ورنہ ان کے اس دورے کہ خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔