1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سات یورپی بینک سٹریس ٹیسٹ میں ناکام

یورپی بینکوں میں مالی کساد بازاری کے بعد ایک ایسا ٹیسٹ متعارف کروایا گیا ہے جس کا مقصد یہ اندازہ لگانا ہے کہ بحرانی کیفیت میں بینک کے دیوالیہ ہونے کے کیا امکانات ہیں۔ اقتصادی اصطلاح میں اسے سٹریس ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔

default

مرکزی یورپی بینک کا لوگو

کئی ہفتوں کے اندازوں اور قیاس آرائیوں کے بعد یورپی بینکوں پر کئے گئے سٹریس ٹیسٹ کے نتائج عام کردیئے گئے ہیں۔ کل 91 بینک منتخب کئے گئے تھے۔ ان میں سے سات اس امتحان میں ناکام قرار دیئے گئے۔ سات میں سے پانچ بینک یورپی ملک اسپین کے ہیں۔ اس سٹریس ٹیسٹ کی نگرانی کمیٹی برائے یورپی بینکنگ سپروائزرز کر رہی تھی۔ سٹریس ٹیسٹ میں ناکام ہونے والے سات بینکوں میں ایک جرمن ہائپو ریئل ایسٹیٹ اور ایک یونانی بینک ہے۔

ان 91 بینکوں پر سٹریس ٹیسٹ کا عمل ایک ماہ تک جاری رکھا گیا۔ اس دوران ان بینکوں کی مالیاتی حیثیت اور اثاثوں کی جانچ پڑتال مختلف حسابی کلیوں کے ذریعے مکمل کی گئی۔ اس مناسبت سے کچھ حلقوں کی جانب سے اس ٹیسٹ کی پذیرائی کی گئی اور بعض اقتصادی حلقے یہ بھی کہتے سنے گئےکہ اس سٹریس ٹیسٹ کی فی الحال ضرورت نہیں تھی کیونکہ مالی کساد بازاری کا وقت گزرچکا ہے جب کہ جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ٹیسٹ حال کی صورت حال جاننے کے لئے نہیں بلکہ مستقبل میں کسی بحرانی صورت حال میں ان بینکوں کی کارکردگی کا ایک جائزہ تھا۔

ناکام ہونے والے بینکوں کو اب تقریباً ساڑھے تین ارب یورو کی ضرورت ہے اور اس مالی قرضے کے حصول کے بعد وہ اس معیار پر اتریں گے جو سٹریس ٹیسٹ کمیٹی نے وضع کر رکھا ہے۔ کمیٹی نے ناکام بینکوں کی انتظامیہ کو مقررہ وقت میں وہ پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جوسٹریس ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد بنیادی مالی حجم میں بہتری کے لئے لازمی ہے۔ جرمنی کے دیگر چودہ بینک اس ٹیسٹ میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

Flash Wochenrückblick Bildergalerie für 07.08. 2009 HRE

جرمن بینک ہائپو ریئل ایسٹیٹ :بینکوں کے سٹریس ٹیسٹ میں ناکام

اقتصادی اصطلاح میں سٹریس ٹیسٹ سے مراد کسی بھی بینک کے کل سرمایے کی روشنی میں اس کی ذمہ داریوں کا تناسب دیکھا جاتا ہے، کہ کسی بھی بحرانی صورت حال میں کیا بینک کے پاس اتنا سرمایہ موجود ہے کہ وہ اپنی بقا قائم رکھ سکتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں کئی دوسرے پہلووں کو بھی چیک کیا جاتا ہے مثلاً بینک نے کتنا مالی قرضہ لینے کے ساتھ ساتھ کتنا قرضہ عام کمپنیوں اور افراد کو فراہم کر رکھا ہے۔ اس تمام صورت حال میں ملکی مارکیٹ اور بین الاقوامی مالی منڈیوں میں کرنسی کی قیمت اور افراط زر کی شرح کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر بینک کی ممکنہ شرح منافع اور شرح نقصان نکالی جاتی ہے۔ بینک کے بنیادی سرمائے اور اثاثوں کی مالیت کو بھی پرکھا جاتا ہے۔ ناکامی کی صورت میں بینک کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ مقررہ وقت میں اپنے بنیادی سرمائے میں اضافہ کرے۔

اقتصادی ماہرین نے یورپی بینکوں پر کئے گئے سٹریس ٹیسٹ کو ایک اچھی خبر قرار دیا ہے۔ اس ٹیسٹ کے حوالے سے بعض ماہرین مالیات کا اصرار ہے کہ ٹیسٹ کے معیارات قدرے نرم تھے اور ان کو مزید سخت کرنا ضروری ہے اور اگر یہ سخت ہوتے تو ناکام ہونے والے بینکوں کی تعداد تین گنا ہو سکتی تھی۔ یورپی کمیٹی نے سٹریس ٹیسٹ کو ہر بینک پر علیحیدگی سے مکمل کیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس