1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ساتھی کی ترقی پر حسد کی بجائے ذاتی احتساب

اگر آپ کے ساتھی کو کسی کام کے بدلے تعریف سننے کو ملتی ہے، یا انتظامیہ کی طرف سے ترقی دی جاتی ہے تو ایسے میں آپ کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟

default

جرمنی کی معروف کیریئر کونسلر Svenja Hofert کے مطابق ایسی صورت میں اگر کوئی حسد کے جذبے سے ملغوب نہیں ہوتا تو اس کے لیے خود احتسابی کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔

Madeleine Leitner نہ صرف کیریئر کونسلر ہیں بلکہ وہ ماہرنفسیات کے طور پر بھی کام کرتی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی ساتھی کی تعریف پر خوش ہونے کے بجائےآپ حسد محسوس کریں اور اپنی ناراضگی یا ناپسندیدگی ظاہر کرنے سیدھے باس کے آفس چلے جائیں تو بےجا ردعمل کی پاداش میں آپ ویسے ہی مستقبل میں ترقی پانے کی دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ لینٹرکے مطابق حسد یا جلن کے بجائے اگر خود احتسابی کے عمل سے اپنے آپ کو گزاریں تو اس کا مثبت اثر نہ صرف آپ کے کام بلکہ کیریئر پر بھی پڑے گا۔ Leitner کے مطابق ،" اگر کوئی شخص حسد جیسے سخت جذبات سے گزرتا ہے تو ممکنہ طور پر اس کی وجہ کام کے بجائے کوئی اور ہوسکتی ہے۔"

Emotionen Migräne Schmerzen Kopf Business Frau

حسد یا جلن کے بجائے خود احتسابی کے عمل کے مثبت اثرات نہ صرف کام بلکہ کیریئر پر بھی پڑتے ہیں

دوسری جانب زندگی گزارنے کے آداب سکھانے والےTheo Bergauer کا اس حوالے سے کچھ اور ہی کہنا ہے۔ تھیو کے مطابق حسد کا جذبہ کسی بھی شخص کو کچھ کر دکھانے یا کچھ پانے کی تحریک دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، "حسد کے کئی طرح کے انجام ہو سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے کچھ لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے باقی ساتھیوں کی طرح اپنی علیحدہ شناخت بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، کسی کو احساس ہوتا ہے کہ وہ آسانی سے کامیاب نہیں ہو سکتے اس لیے مزید محنت کرتے ہیں اور یہی رویہ اور سوچ ان کا مستقبل سنوارنے میں مدد دیتی ہے۔

Svenja Hofert کہتی ہیں کہ حسدکے بجائے درست رویہ تو یہ ہی ہو گا کہ وہی کیا جائے جو ایسے موقعوں پر کھلاڑی کرتے ہیں۔ یعنی ساتھیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے مقرر کردہ اہداف سےبھی آگے تک رسائی کے لیے بھرپور جدوجہد۔ اسی بات سے Leitner بھی اتفاق کرتی ہیں اورکہتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ترقی حاصل کرنے والا آپ کا ساتھی آپ سے کسی چیز میں زیادہ بہتر ہو۔ تاہم وہ چیز کیا ہے اس کا اندازہ تو صرف خود احتسابی سے ہی سامنے آسکتا ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس