1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

سابق پاکستانی اسپنر، سٹے بازی کے الزام میں گرفتار

پاکستانی شہر لاہور میں پولیس نے سابق ٹسیٹ اسپنر اکرم رضا کو بھارتی پریمیئر لیگ کے میچوں پر سٹہ کھیلنے کے الزام میں اتوار کے روز حراست میں لے لیا ہے۔ ان کے ساتھ دیگر چھ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

default

46 سالہ اکرم رضا نے پاکستان کے لیے 49 ایک روزہ میچز کھیلے جبکہ انہیں نو ٹیسٹ میچوں میں پاکستان ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ گیارہ برس قبل انہیں میچ فکسنگ کے الزام میں جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اکرم رضا کو لاہور پولیس نے دیگر چھ افراد کے ہمراہ لاہور شہر کے ایک مصروف کاروباری علاقے سے اس وقت حراست میں لیا گیا، جب پولیس نے بک میکرز کے ایک گروہ کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مارا۔ یہ گروہ آئی پی ایل کے میچوں پر سٹے بازی میں مصروف رہا ہے۔ پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران ٹیلی فون سیٹ، کمپیوٹر، ٹی وی اور بھاری نقدی برآمد کی گئی ہے۔

پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ میں امپائرنگ کے فرائض انجام دینے والے سابق ٹیسٹ کھلاڑی رضا کو سن 2000ء میں جسٹس ملک محمد قیوم کے تحقیقاتی کمیشن نے میچ فکسنگ کے الزام میں جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ان کے ساتھ سابق ٹیسٹ کپتان سلیم ملک سمیت دیگر پانچ کھلاڑی بھی شامل تھے۔

جسٹس قیوم انکوائری میں سلیم ملک اور سابق فاسٹ بولر عطاالرحمان پر تاحیات پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

رواں برس پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر آئی سی سی کی جانب سے پابندی عائد کی گئی ہے

پاکستانی حکومت نے یہ ایک رکنی تحقیقاتی کمیشن آسٹریلیا کے کھلاڑیوں شین وارن اور مارک وا کے ان الزامات کے بعد قائم کیا تھا، جن میں کہا گیا تھا کہ سلیم ملک نے سن 1995 میں پاکستانی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کے دوران انہیں رشوت کی پیشکش کی تھی۔ واضح رہے کہ حراست میں لیے جانے والے سابق اسپنر رضا بھی اس دورے میں پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے۔

اس سے قبل رواں برس کے آغاز میں تین پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف پر سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس