1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی گرفتار

پاکستان میں مذہبی امور کے سابق وزیر حامد سعید کاظمی کو اسلام آباد کی ایک عدالت نے حج انتظامات میں مبینہ کرپشن کے الزام میں پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے حوالے کر دیا ہے۔

default

گزشتہ برس حج انتظامات میں بد عنوانی اور بدنظمی کے نتیجے میں پاکستانی حاجیوں کو پیش آنے والی مشکلات پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے رکھا ہے۔ حج کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے عدالت کو بتایا تھا کہ حامد سعید کاظمی کے خلاف ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس سکینڈل میں ملوث ہیں۔ ایف آئی اے نے حامد سعید کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے لیکن انہوں نے عدالت سے قبل از گرفتاری عبوری ضمانت حاصل کر رکھی تھی۔ تاہم منگل کے روز ضمانت منسوخ ہونے کے بعد ایف آئی اے حکام نے انہیں احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا تھا۔

ایف آئی اے نے بدھ کے روز جب سابق وزیر کاظمی کو جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں نام نہ ہونے کے باوجود انہیں اپنی گرفتاری پر حیرت ہے۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر کا کہنا تھا:

’’سپریم کورٹ نے اعظم خان سواتی کو یہ کہہ دیا کہ آج تک آپ ان کے(حامد کاظمی) خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے لیکن اب ٹرائل کورٹ کو ایسے کون سے ثبوت مل گئے جس سے میری ضمانت منسوخ ہوئی ہے۔ لیکن دوسری جانب یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ میری ضمانت کینسل کی جائے اور جب سپریم کورٹ کہہ دے تو ماتحت عدالت میں میری ضمانت کون لے سکتا ہے۔‘‘

حج کرپشن سکینڈل میں وزیراعظم گیلانی کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی کے ملوث ہونے سے متعلق ایک سوال پر حامد کاظمی کا کہنا تھا: ’’ دیگر ارکان اسمبلی کی طرح وہ بھی میرے پاس آتے تھے لیکن اس مقدمے میں ان کے ملوث ہونے سے متعلق میرے پاس کوئی ثبوت نہیں۔‘‘

Hadsch 2009 Galerie

مکہ مکرمہ: رات کا منظر

ادھر بدھ ہی کے روز عدالت عظمیٰ میں حج کرپشن سکینڈل کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایف آئی اے کی تحقیقات کو سست قرار دیتے ہوئے اس میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر ایف آئی اے کے افسران نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی سابق وزیر مملکت شگفتہ جمانی کے بارے میں بھی گواہوں کے بیانات موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے حج انتظامات کے دوران لاکھوں ریال کمیشن وصول کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو ان کے خلاف بھی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی۔

حامد سعید کاظمی رحیم یار خان سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ حج کرپشن کی سماعت کے دوران وزیراعظم نے ان کو وفاقی وزیر کے عہدے سے الگ کر دیا تھا۔ حامد سعید کی گرفتاری کے خلاف ان کے حامیوں نے جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کیے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے سیاسی حلقے حج کرپشن سکینڈل کو پیپلز پارٹی کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ آزاد عدلیہ کے فیصلوں کی راہ میں سیاسی دباؤ آڑے نہیں آ سکتا۔ ڈوئچےویلے سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا :

’’ اس تفتیش کی نگرانی سپریم کورٹ کر رہی تھی اور پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ قانون کا ہاتھ اتنے بڑے عہدے تک پہنچا ہے جو کہ قانون کی بالادستی کی طرف ایک قدم ہے۔ میرے میں اس سے ایک رجحان پیدا ہوا اور لوگ احتساب سے ڈریں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قانون کی عملداری ہو رہی ہے۔‘‘

حامد سعید کاظمی کو اکیس مارچ کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائیگا۔

شکور رحیم ،اسلام آباد

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس