1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سابق نازی اذیتی کیمپ آؤشوٹس: مسلمان رہنماؤں کا دورہ

مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان، مسیحی اور یہودی مذہبی رہنماؤں نے پولینڈ میں سابق نازی اذیتی کیمپ آؤشوٹِس کا دورہ کیا ہے۔ اس کا مقصد ہولو کوسٹ کے دوران قتل ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا۔

default

گزشتہ جمعرات کو ہی جنوبی پولینڈ میں واقع ماضی کے اس نازی اذیتی کیمپ آؤشوٹس کی آزادی کی 66 ویں سالگرہ کی تقریبات منائی گئی تھیں۔ ان میں جرمنی کے صدر کرسٹیان وولف نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔

مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی طرف سے اس مقام کا دورہ کرنا دراصل سابق اذیتی کیمپ کی آزادی کی 66 ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے کی ہی ایک کڑی تھا۔

مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے مذہبی رہنماؤں کے اس دورے کا اہتمام فرانس میں شروع ہونے والے اللہ دین نامی ایک پراجیکٹ کی طرف سے کیا گیا تھا، جس کا مقصد بین المذاہب مکالمت اور مسلم کمیونٹی میں ہولو کوسٹ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

رومن کیتھولک آرچ بشپ کارڈنیل Andre Vingt-Trois نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس پراجیکٹ کے تحت ابراہیمی مذاہب یعنی مسیحیت، یہودیت اور اسلام کے مذہبی رہنما ایک ایسی جگہ اکٹھے ہوئے ہیں، جہاں یہودیوں کا قتل عام ہوا تھا۔‘اس موقع پر شرکاء نے یادگاری مقام پر پھول چڑھانے سے قبل ایک خصوصی بین المذاہب تقریب میں بھی شرکت کی۔

Auschwitz Soundgalerie Flash-Galerie

آؤسوٹِش کے اس اذیتی کیمپ میں 1.1 ملین افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا

اس تقریب میں خطاب کرتے ہوئے بوسنی مسلمانوں کے اعلیٰ مفتی مصطفیٰ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ قتل عام سے انکار کی تمام صورتوں کے خلاف آواز بلند کی جائے،’ میں یہاں یہ کہتا ہوں کہ جو لوگ آؤشوٹِس میں ہونے والے قتل عام سے انکار کرتے ہیں اور جو سربینتسا کے قتل عام کے منکر ہیں، دراصل وہ خود قتل عام جیسے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔‘

ان کا اشارہ بوسنیا کی خانہ جنگی کے دوران سن 1995ء میں بوسنی سرب فوجوں کی طرف سے آٹھ ہزار بوسنی مسلمانوں کے قتل عام کی جانب تھا۔

تقریب کے موقع پر پولینڈ کےچیف رابی میشائل سودریش نے اس امید کا اظہار کیا کہ بین المذاہب مکالمت کے بعد مستقبل میں قتل عام کے ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی،’یہودی، مسیحی اور مسلمان مذاہب کے رہنما، یہاں پر ماضی میں ہونے والے ایک ہولناک قتل عام کی یادگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ وہ اب مستقبل میں اس طرح کا کوئی بھی عمل روکنے میں کامیاب ہوں گے۔‘

دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی کے پولینڈ پر قبضے کے عرصے میں نازی حکمرانوں کے ایماء پر آؤشوٹِس کے اس اذیتی کیمپ میں 1.1 ملین افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا، جن میں سے زیادہ تر یہودی تھے جبکہ ہولو کوسٹ کے دوران مجموعی طور کم ازکم چھ ملین یہودی ہلاک کیے گئے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس