1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق مصری صدر حسنی مبارک کو رہا کر دیا گیا

مصر کے سابق صدر حُسنی مبارک کو قید سے رہا کر دیا گیا ہے۔ انہیں آج جمعہ کے روز اُس ملٹری ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی، جہاں انہوں نے اپنی چھ سالہ حراست کا زیادہ تر وقت گزارا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مصر کے سابق آمر حکمران حسنی مبارک کی رہائی کی تصدیق ان کے وکیل نے کی ہے۔ مصر کی عدالت عالیہ کی طرف سے حسنی مبارک کی رہائی کا فیصلہ رواں ماہ کے آغاز میں سنا دیا گیا تھا۔

 مصر: عرب انقلاب کی اہم شخصیت کی رہائی
مصر کے انقلاب کے پانچ سال

ڈرامائی موڑ، حسنی مبارک قتل اور کرپشن کے مقدمات میں بری

اس عدالت نے سابق صدر کو 2011ء میں ان کی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیا تھا۔ انہی مظاہروں کے سبب حسنی مبارک کو تین دہائیوں پر مبنی اپنے اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہیں قاہرہ کے المادی ملٹری ہسپتال سے رہا کر دیا گیا ہے جس کے بعد وہ اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔

اے ایف پی کے مطابق سابق مصری صدر کے وکیل فرید الدیب سے جب ان کی رہائی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ حسنی مبارک ہسپتال سے روانہ ہو گئے ہیں۔

Hosni Mubarak Präsident Ägypten (Reuters/A. Dalsh)

مصر میں 2011ء میں ہونے والے شدید مظاہروں کے بعد حُسنی مبارک اپنے اقتدار سے الگ کر دیے گئے تھے

مصر میں 2011ء میں ہونے والے شدید مظاہروں کے بعد حُسنی مبارک اپنے اقتدار سے الگ کر دیے گئے تھے۔ عرب اسپرنگ کے تناظر میں اقتدار کی محرومی کے بعد وہ پہلے ایسے حکمران ہیں جنہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

تین دہائیوں تک برسر اقتدار رہنے والے حسنی مبارک کو گزشتہ برس خونریز عوامی مظاہروں کے باعث عہدہ صدارت چھوڑنا پڑا تھا۔ حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف ہونے والے ان مظاہروں کے دوران 850 کے قریب افراد ہلاک اور چھ ہزار سے زائد زخمی ہو ئے تھے۔

DW.COM