سابق فوجی جنرل، نیا سکیورٹی مشیر | حالات حاضرہ | DW | 19.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق فوجی جنرل، نیا سکیورٹی مشیر

پاکستان ایک سابق فوجی جنرل کو ملک کا نیا سکیورٹی ایڈوائزر مقرر کرنے والا ہے۔ اسے فوج کی طرف سے سکیورٹی پالیسی اور خاص طور پر بھارت کے ساتھ تعلقات جیسے معاملات پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک ملٹری اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے ریٹائر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل نصیر خان جنجوعہ کو جلد ہی ملک کا نیا سکیورٹی ایڈوائزر مقرر کیا جائے گا اور وہ وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکا کے دوران ان کے ہمراہ ہوں گے۔

اس وقت سکیورٹی ایڈوائزر کی ذمہ داری سرتاج عزیز نبھا رہے ہیں۔ انہیں وزیراعظم نواز شریف کے کافی قریب سمجھا جاتا ہے جبکہ وہ خارجہ امور کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ روئٹرز نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے، ’’آرمی چیف سمجھتے ہیں کہ سرتاج عزیز صاحب کی توجہ بٹی ہوئی ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جنرل جنجوعہ کو نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر مقرر کیا جائے اور سرتاج عزیز اپنی ساری توجہ دفتر خارجہ کو دے سکتے ہیں۔‘‘

اس اہلکار کا مزید کہنا تھا، ’’یہ ایسا نہیں ہے کہ وزیراعظم آرمی سربراہ کے سامنے جھُک رہے ہیں یا فوج زبردستی کر رہی ہے، ایسا بالکل نہیں ہے۔ بلکہ یہ دونوں اطراف مل کر طے کر رہے ہیں۔‘‘ روئٹرز کے مطابق اس معاملے پر تاہم فوجی ترجمان نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

روئٹرز کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے پاکستان کی طاقتور فوج کے ساتھ تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں جس کے ہاتھوں وہ 1999ء میں بطور وزیراعظم اپنے عہدے سے محروم کر دیے گئے تھے۔ انہوں نے 2013ء میں ایک بار پھر وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ روایتی حریف اور جوہری ہتھیار رکھنے والے ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان 1947ء میں تقسیم کے بعد سے اب تک تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔

اس وقت سکیورٹی ایڈوائزر کی ذمہ داری سرتاج عزیز نبھا رہے ہیں

اس وقت سکیورٹی ایڈوائزر کی ذمہ داری سرتاج عزیز نبھا رہے ہیں

روئٹرز کے مطابق نواز شریف کابینہ کے ایک سینیئر وزیر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کافی مہینوں نے جنرل جنجوعہ کی تقرری کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے تاہم نواز شریف اپنے آدمی یعنی سرتاج عزیز کو اس عہدے پر برقرار رکھنے کے حامی تھے۔ اس وزیر کے مطابق، ’’اب آرمی چیف نے وزیراعظم کو اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ فوج اور حکومت کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔‘‘

روئٹرز کے مطابق جنجوعہ کی تقرری ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں تناؤ نسبتاﹰ کم ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان رواں برس اگست میں مذاکرات ہونا تھے تاہم بھارت نے یہ مذاکرات معطل کر دیے کیونکہ وہ اس بات چیت کو محض پاکستان کی جانب سے بھارتی سرزمین پر شدت پسندی کے معاملے تک محدود کرنا چاہتا تھا جبکہ پاکستان مذاکرات کا دائرہ اس سے وسیع کرنا چاہتا تھا۔