1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق فرانسیسی صدر شراک کے خلاف مقدمے کا آغاز

سابق فرانسیسی صدر ژاک شراک کا نام متعدد اسکینڈلز کے حوالے سے سامنے آیا، بغیر اِس کے کہ اُنہیں کبھی سزا ہوتی۔ اب لیکن اُنہیں عدالت میں جوابدہ ہونا پڑ رہا ہے تاہم پیر کو سماعت کے پہلے روز وہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔

default

سابق فرانسیسی صدر ژاک شراک

پہلے روز کی عدالتی کارروائی میں شرکت نہ کرتے ہوئے شراک اُن ابتدائی تکلیف دہ سوالات سے بچ گئے، جو ہر ملزم سے پوچھے جاتے ہیں کہ وہ کرتا کیا ہے اور اُس کی آمدنی کتنی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ تاہم شراک کی نمائندگی کے لیے اُن کے وکیل عدالت میں حاضر تھے۔

کسی سابق فرانسیسی صدر کے خلاف یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے اور یوں کئی اعتبار سے ایک تاریخی واقعہ ہے۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مقدمہ پوری طرح سے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم بھی ہو جائے۔ 9 شریک ملزمان میں سے ایک کے وکیل نے پیر کی سماعت کے دوران یہ نکتہ اٹھایا کہ فرانس کی آئینی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے یہ پتہ چلایا جانا چاہیے کہ آیا ایسے معاملات کو عدالت میں لانا قانونی طور پر درست بھی ہے، جنہیں گزرے اتنا طویل عرصہ گزر چکا ہو۔ یہ ایک ایسا قانونی وسیلہ ہے، جو ابھی گزشتہ برس سے لاگو ہوا ہے۔ اگر ججوں نے اِس نکتے کو تسلیم کر لیا تو آنے والے چند ایک مہینوں کے لیے شراک ایک بار پھر عدلیہ کا سامنا کرنے سے بچ جائیں گے۔

Jacques Chirac wirbt für EU Verfassung

شراک یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ الزامات کا عدالت میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں

شراک کو اُس دور کے دوران ہونے والی بدعنوانی کے لیے جوابدہ ہونا پڑ رہا ہے، جب وہ ابھی پیرس کے میئر ہوا کرتے تھے۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری میں اُنہوں نے لکھا ہے کہ 1977ء سے لے کر 1995ء تک میئر کے اِس عہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ 1995ء کے صدارتی انتخابات کی تیاریاں کر رہے تھے۔ مثلاً اِسی دوران اُنہوں نے دورے پر جانے والے غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ روابط اُستوار کیے۔ تاہم شراک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ اِس دوران اُنہوں نے اپنے سیاسی دوستوں اور ساتھیوں میں ملازمتیں بھی تقسیم کیں۔ مبینہ طور پر یہ وہ لوگ تھے، جو اُن کی کنزرویٹو آر پی آر پارٹی کے لیے کام کرتے تھے یا پھر کام نہیں کرتے تھے، محض تنخواہیں وصول کرتے تھے۔

کئی ایک فرانسیسی شہریوں کے نزدیک یہ اقدام نہایت غیر ضروری ہے کہ ایک 78 سالہ سابق صدر کے خلاف ایسے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے، جن کا تعلق بہت دور کہیں 90ء کے عشرے سے ہو۔ بلاشبہ 2007ء میں اپنے عہدے سے رخصت ہونے کے بعد سے شراک اپنے وطن کی مقبول ترین شخصیات میں شمار ہونے لگے ہیں جبکہ اُن کے جانشین نکولا سارکوزی کی مقبولیت تیزی سے نیچے آ رہی ہے۔

شراک متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا عدالت میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور یہ کہ اُنہیں یقین ہے کہ یہ الزامات غلط ثابت ہوں گے۔ شراک پہلی مرتبہ بدھ 9 مارچ کو عدالت میں حاضر ہوں گے۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں، جس کا کہ کم ہی امکان نظر آتا ہے، شراک کو دَس سال قید اور ڈیڑھ لاکھ یورو جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM