1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق عالمی رہنماؤں کا شمالی کوریا کا متوقع دورہ

سابق امریکی صدر جمی کارٹر تین سابق عالمی رہنماؤں کے ہمراہ اس ماہ شمالی کوریا کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کا مقصد جزیرہ نما کوریا پر بڑھتے تناؤ اور خوراک کی کمی کے معاملے پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

default

پیر کے روز ایک روزنامے JoongAng نے جنوبی کوریا کے سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ صدر کارٹر کے اس دورے میں ان کے ساتھ فن لینڈ کے سابق صدر Martti Ahtisaari، آئرلینڈ کی سابق صدر Mary Robinson اور ناروے کے سابق وزیر اعظم Gro Harlem Brundtland ہوں گے۔

یہ چاروں ان سابق رہنماؤں پر مشتمل گروپ کا حصہ ہیں جنہیں The Elders کہا جاتا ہے۔ اپنی ویب سائٹ پر اس گروپ کا کہنا ہے کہ وہ کوریائی خطے میں بڑھتے تناؤ اور علاقے میں خوراک کی کمی کی رپورٹوں کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔

Friedensnobelpreis für Jimmy Carter

نوبل انعام یافتہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے حال ہی میں کہاتھا کہ شمالی کوریا کے چھ ملین افراد یعنی مجموعی آبادی کے ایک چوتہائی حصہ کو خوراک کی فوری ضرورت ہے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اس ویب سائٹ پر دیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ The Elders کا ایک چھوٹا وفد اپریل کے آخر میں خطے کا دورہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس دورے میں وہ خطے کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے حکام سے بات چیت کرے گا تاہم ابھی دورے اس کے حوالے سے کوئی حتمی منصوبہ نہیں بنایا گیا ہے۔

Korea Seoul Demonstration Atomwaffen Flash-Galerie

دونوں کوریائی خطوں کے درمیان بڑھتے تناؤ کو کم کرنے کے لیے سابق عالی کوشش کریں گے

ادھر جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس دورے کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق سابق امریکی صدر کارٹر پیانگ یانگ کا تین روزہ دورہ 26 اپریل سے شروع کریں گے۔

سابق امریکی صدر جمی کارٹر 1977 سے 1981 تک امریکہ کے صدر تھے۔ 1994ء میں جب شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے تنازعہ پر واشنگٹن اور پیانگ یانگ جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے تب بھی کارٹر نے ہی شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا۔ اُس وقت کے شمالی کوریائی رہنما کے ساتھ کارٹر کی ملاقات میں پیانگ یانگ نے توانائی کے شعبے میں امریکی امداد کے بدلے اپنے ایٹمی ری ایکٹر کو بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM